13۔ ظلم و زیادتی میں تعاون

حق تلفی اور ناحق زیادتی کا جرم ہونا تو ہر لحاظ سے مسلم ہے، مگر اِن میں تعاون کو، بالعموم بڑا جرم شمار نہیں کیا جاتا ، دراں حالیکہ کہ اِس کی شناعت اصل جرم سے کسی طور پر کم نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اگر مجرم کو یہ تعاون میسر نہ ہو ـــــــ جو بعض اوقات خاموش رہ کر، بعض اوقات شہادت کو چھپا کر، بعض اوقات مجرم کی حمایت میں بول کر، بعض اوقات اُس کے لیے اسباب کا بندوبست کر کے اور بعض اوقات اُس کے عمل میں شریک ہو کر کیا جاتا ہے ـــــــ تو اُس کے لیے جرم سے باز رہنے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جہاں نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کی ہدایت فرمائی ہے، وہاں حق تلفی اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں تعاون سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:

وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ.

(المائدہ5: 2)

’’(نہیں، ہر حال میں حدود الٰہی کے پابند رہو)، اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کرو، مگر حق تلفی اور زیادتی میں تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، اِس لیے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’...یعنی جس گروہ کو اللہ نے دنیا میں نیکی اور تقویٰ قائم کرنے کے لیے پیدا کیا ہے، اُس کے لیے پسندیدہ روش یہ نہیں ہے کہ وہ دوسروں کی زیادتیوں سے مشتعل ہو کر خود اُسی طرح کی زیادتیاں کرنے لگے۔ وہ ایسا کرے تو اِس کے معنی یہ ہوئے کہ اُس نے گناہ اور زیادتی کے کام میں تعاون کیا اور شریروں نے برائی کی جو نیو جمائی، اُس پر اُس نے بھی چند ردّے رکھ دیے، حالاں کہ اُس کا کام نیکی اور تقویٰ میں تعاون کرنا تھا۔‘‘

(تدبرقرآن2/455)