2۔ آستانے پر اور فال کے ذریعے سےذبح کیے گئے جانور

نصب، یعنی تھان، استھان پر ذبح کیے گئے جانور اور وہ جانور جنھیں فال نکال کر ذبح کیا جائے، دونوں کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔ ارشاد ہے:

وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ ؕ ذٰلِکُمۡ فِسۡقٌ .

(المائده 5: 3)

’’اِسی طرح وہ جانور بھی حرام ہیں، جو کسی آستانے پر ذبح کیے گئے ہوں اور یہ بھی کہ تم (اُن کا گوشت) جوے کے تیروں سے تقسیم کرو۔ (تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) یہ سب خدا کی نافرمانی کے کام ہیں۔ ‘‘

یہ دونوں خبائث ہیں، مگر اِن کا خبث مادی نہیں، بلکہ اخلاقی ہے۔ اول الذکر میں شرک کی خباثت پائی جاتی ہے اور ثانی الذکر میں جوے کی روح پائی جاتی ہے، جسے اللہ نے گندے شیطانی کاموں (رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ) میں شامل کیا ہے۔

وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ‘ ( آستانے پر ذبح کیے گئے جانور) کےالفاظ سے واضح ہے کہ یہ اِسی آیت میں مذکور حرمت ’وَمَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ‘ کے تحت ہے۔ یعنی یہ وہ ذبیحہ ہے، جو اللہ کے علاوہ کسی فرشتے، کسی جن، کسی انسان کی نذر کیا گیا ہے۔ استھان پر اللہ ہی کے نام سے ذبح کیا جائے تو اُس کے بارے میں یہ اشتباہ ہو سکتا تھا کہ اللہ کے نام کی وجہ سے اُسے حلال سمجھا جائے یا استھان کے مرکزِ شرک ہونے کی وجہ سے اُسے حرام میں شامل کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ اِسے حرام ہی کے زمرے میں شمار کیا جائے گا۔ امام امین احسن اصلاحی اِس حرمت اور اِس کے اندر مذکورہ پہلو کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’’نُصب‘ تھان اور استھان کو کہتے ہیں۔ عرب میں ایسے تھان اور استھان بے شمار تھے، جہاں دیویوں، دیوتاؤں، بھوتوں، جنوں کی خوش نودی کے لیے قربانیاں کی جاتی تھیں۔ قرآن نے اِس قسم کے ذبیحے بھی حرام قرار دیے۔ قرآن کے الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اِن کے اندر حرمت مجرد بارادۂ تقرب و خوش نودی، استھانوں پر ذبح کیے جانے ہی سے پیدا ہو جاتی ہے، اِس سے بحث نہیں کہ اِن پر نام اللہ کا لیا گیا ہے یا کسی غیر اللہ کا۔ اگر غیر اللہ کا نام لینے کے سبب سے اِن کو حرمت لاحق ہوتی تو اِن کے علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، اوپر’وَمَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ‘کا ذکر گزر چکا ہے، وہ کافی تھا۔ ہمارے نزدیک اِسی حکم میں وہ قربانیاں بھی داخل ہیں، جو مزاروں اور قبروں پر پیش کی جاتی ہیں۔ اِن میں بھی صاحبِ مزار اور صاحبِ قبر کی خوش نودی مدِنظر ہوتی ہے۔ ذبح کے وقت نام چاہے اللہ کا لیا جائے یا صاحبِ قبر و مزار کا، اِن کی حرمت میں دخل نام کو نہیں، بلکہ مقام کو حاصل ہے۔‘‘(تدبر قرآن 2/ 456- 457)

جہاں تک ’استقسام بالازلام‘ کا تعلق ہے تو یہ نری قسمت آزمائی ہے۔ ’استقسام‘ کے معنی قسمت یا تقدیر کے بارے میں جاننے کے اور کسی چیز میں اپنا حصہ معلوم کرنے کے ہیں۔ ’فال ‘کا لفظ بھی اِسی مفہوم کو ادا کرتا ہے۔ ’ازلام‘ جوے یا فال کے تیروں کو کہا جاتا ہے۔ عرب میں تیروں کے ذریعے سے فال نکالنے کا رواج تھا ۔ یہ طریقہ گوشت یا منفعت کی کسی اور چیز میں حصہ پانے کے لیے کیا جاتا تھا۔ اِس کے نتیجے میں بعض لوگوں کو زیادہ ملتا تھا، بعض کو کم اور بعض بالکل محروم رہتے تھے۔ اِس میں ظاہر ہے کہ قسمت آزمائی کا بھی پہلو ہے، جو انسان کے اندر محنت کی خو کو کم زور کرتا ہے اور بے انصافی کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ چنانچہ اِس اصول پر جانوروں کے گوشت کو تقسیم کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ امام امین احسن اصلاحی نے واضح کیا ہے:

’’ ...عرب شراب نوشی کی مجلسیں منعقد کرتے، شراب کے نشے میں جس کا اونٹ چاہتے ذبح کر دیتے، مالک کو منہ مانگے دام دے کر راضی کر لیتے پھر اُس کے گوشت پر جوا کھیلتے۔ گوشت کی جو ڈھیریاں جیتتے جاتے اُن کو بھونتے، کھاتے، کھلاتے اور شرابیں پیتے اور بسا اوقات اِسی شغل بد مستی میں ایسے ایسے جھگڑے کھڑے کر لیتے کہ قبیلے کے قبیلے برسوں کے لیے آپس میں گتھم گتھا ہو جاتے اور سیکڑوں جانیں اِس کی نذرہوجاتیں ۔‘‘

(تدبر قرآن 2/ 457)

استاذِ گرامی کے نزدیک دونوں حرمتوں کا سبب اِن کی مادی اورظاہری نجاست نہیں، بلکہ اِن میں پائی جانے والی فکری نجاست ہے۔ اِس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ نے اِنھیں فسق میں شامل کیا ہے، جس سے علم و عقیدہ کی گم راہی مراد ہے۔ اُنھوں نے لکھا ہے:

’’اوپر خدا کے سوا کسی اور کے نام کا ذبیحہ حرام ٹھیرایا گیا ہے۔ سورۂ انعام (6) کی آیت 145 میں قرآن نے واضح فرمایا ہے کہ اُس کی حرمت کا باعث خود جانور کا ’رِجْس‘، یعنی ظاہری نجاست نہیں، بلکہ ذبح کرنے والے کا ’فِسْق‘ ہے۔ خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کرنا چونکہ ایک مشرکانہ فعل ہے، اِس لیے اُسے ’فِسْق‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ علم و عقیدہ کی نجاست ہے۔ اِس طرح کی نجاست جس چیز کو بھی لاحق ہو جائے، عقل کا تقاضا ہے کہ اُس کا حکم یہی سمجھا جائے۔ قرآن نے یہ دونوں چیزیں اِسی اصول کے تحت ممنوع قرار دی ہیں۔ اِن کے لیے اصل میں ’مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ‘ اور ’اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔‘‘ (البیان 1/ 592)