فواحش کی ایک قبیح صورت مردوں کا مردوں سے جنسی تلذذ ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم میں یہ عمل ایک فیشن اور تہذیبی روایت کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ لوگ اِس کا کھلم کھلا اظہار کرتے اور اِس پر کسی طرح کی شرمندگی محسوس نہیں کرتے تھے۔ قرآنِ مجید نے سورۂ اعراف میں اِس کا ذکر کیا ہے تو اِس کے لیے ’فَاحِشَۃ‘ ہی کی تعبیر اختیار کی ہے۔ فرمایا ہے:
وَ لُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ. اِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَہۡوَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ. (7: 80-81)
’’اِسی طرح لوط کو بھیجا، جب اُس نے اپنی قوم سے کہا: کیا اِس بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو؟ تم سے پہلے دنیا میں کسی قوم نے اِس کا ارتکاب نہیں کیا۔ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو۔ (حقیقت یہ ہے کہ تم بڑے اوندھے)، بلکہ بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی اِس مقام پر لفظِ ’الفَاحِشَۃَ‘ کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’...’الْفَاحِشَۃ‘کھلی ہوئی بدکاری و بے حیائی کو کہتے ہیں اور استفہام یہاں اظہارِ نفرت و کراہت کے مفہوم میں ہے۔ اِس ’فَاحِشَۃ‘ کا یہاں نام نہیں لیا ہے، جو اِس بات کا قرینہ ہے کہ یہ بے حیائی وقت کی سوسائٹی میں اِس درجہ عام تھی کہ نام لیے بغیر بھی ہر شخص سمجھتا تھا کہ اِس سے مراد کیا ہے۔ ... حضرت لوط علیہ السلام نے یہاں درحقیقت دو مختلف پہلوؤں سے اِس برائی پر اظہارِ نفرت فرمایا ہے۔ پہلے تو فرمایا کہ ایسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو، جس کا بے حیائی ہونا ہر عقل سلیم پر واضح ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ حرکتِ شنیع تو تم سے پہلے کسی قوم نے نہیں کی۔‘‘ (تدبر قرآن 3/ 306)