2۔ فساد فی الارض

’فساد فی الارض‘ شریعت کی خاص اصطلاح ہے۔ یہ اُن جرائم کے لیے مستعمل ہے، جو معاشرے کے امن کو درہم برہم کرتے اور لوگوں کی آزادی کو سلب کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ اِن کے مرتکبین نظم اجتماعی کے خلاف برسرجنگ ہوتے،قانون کی بالادستی کو چیلنج کرتے اور عامۃ الناس کے لیے خوف و ہراس کا باعث بن جاتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ زیادتی اور سرکشی کی بدترین صورت ہے۔ یہ صورت اگر زمانۂ رسالت میں ظاہر ہو تو شریعت کی رو سے محاربہ ، یعنی اللہ اور اُس کے رسول کے ساتھ جنگ ہے۔ اِن کی غیر معمولی شناعت کے باعث شریعت میں اِن کے لیے انتہائی سخت سزائیں مقرر ہیں ۔ چنانچہ اِن کے مرتکبین کے بارے میں حکم دیا ہے کہ یا اِنھیں عبرت ناک طریقے سے قتل کیا جائے یا دردناک طریقے سے سولی پر لٹکایا جائے یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں میں کاٹ دیے جائیں یا اُنھیں ملک سے نکال دیا جائے۔ ارشاد فرمایا ہے:

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَ اَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ. ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ، اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ، فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.

(المائدہ 5: 33-34)

’’(اِنھیں بتا دیا جائے کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول سے لڑیں گے اور اِس طرح زمین میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے،اُن کی سزا پھر یہی ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کیے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں یا اُنھیں علاقہ بدر کردیا جائے۔ یہ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے ایک بڑا عذاب ہے، مگر اُن کے لیے نہیں جو تمھارے قابو پانے سے پہلے توبہ کر لیں۔ سو (اُن پر زیادتی نہ کرو اور) اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘

استاذِ گرامی نے اِس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:

’’ اللہ کا رسول دنیا میں موجود ہو اور لوگ اُس کی حکومت میں اُس کے کسی حکم یا فیصلے کے خلاف سرکشی اختیار کرلیں تو یہ اللہ و رسول سے لڑائی ہے۔ اِسی طرح زمین میں فساد پیدا کرنے کی تعبیر ہے۔ یہ اُس صورت حال کے لیے آتی ہے، جب کوئی شخص یا گروہ قانون سے بغاوت کر کے لوگوں کی جان و مال، آبرو اور عقل وراے کے خلاف برسر جنگ ہوجائے۔ چنانچہ قتل دہشت گردی، زنا زنا بالجبر اور چوری ڈاکا بن جائے یا لوگ بدکاری کو پیشہ بنالیں یا کھلم کھلا اوباشی پر اتر آئیں یا اپنی آوارہ منشی، بدمعاشی اور جنسی بے راہ روی کی بنا پر شریفوں کی عزت و آبرو کے لیے خطرہ بن جائیں یا نظمِ ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں یا اغوا، تخریب، ترہیب اور اِس طرح کے دوسرے سنگین جرائم سے حکومت کے لیے امن و امان کا مسئلہ پیدا کردیں تو وہ اِسی فساد فی الارض کے مجرم ہوں گے۔‘‘(البیان1/625)