’اضطرار‘ ہی کا ایک پہلو ’اکراہ‘ ہے۔ اِس کے معنی دوسرے شخص کو اُس کی مرضی کے خلاف اقدام پر مجبور کرنا ہے۔اصطلاح میں اِس سے مراد ایسی حالت ہے،جب انسان لوگوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر ممنوعات سے مجتنب رہنے پرقادر نہ رہے۔ یعنی کوئی فرد، خاندان، قبیلہ، قوم یا ریاست اُسےجبر اً ناحق کو اختیار کرنے پر اصرار کریں اور اُس کے انکار پر اُس کے لیےجان و مال اور عزت و آبرو سے محروم ہونےکا خطرہ پیدا ہو جائے۔ ایسی اندوہ ناک صورتِ حال میں اللہ نے رخصت دی ہے کہ مجبور شخص ظاہری طور پر نا حق کا اظہار کر کے اپنی جان کو محفوظ کر لے۔ اِس صورت میں اُس پر سے مواخذہ اور عقوبت کو اٹھا لیا جائے گا۔ زمانۂ رسالت میں جب نو مسلموں کو طرح طرح کی ایذائیں دے کر اسلام سے منحرف ہونے پر مجبور کیا جانے لگا تو قرآنِ مجید نے یہ رعایت دی کہ وہ مصیبت سے بچنے کے لیے اپنے ایمان کو چھپا سکتے ہیں یا لفظی طور پر کوئی ممنوع کلمہ زبان پر لا سکتے ہیں۔ سورۂ نحل میں ارشاد ہوا ہے:
مَنۡ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اِیۡمَانِہٖۤ اِلَّا مَنۡ اُکۡرِہَ وَ قَلۡبُہٗ مُطۡمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمَانِ وَ لٰکِنۡ مَّنۡ شَرَحَ بِالۡکُفۡرِ صَدۡرًا فَعَلَیۡہِمۡ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ.
(16 : 106)
’’(ایمان والو، تم میں سے) جو اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ سے کفر کریں گے، اُنھیں اگر مجبور کیا گیا ہو اور اُن کا دل ایمان پر مطمئن ہو، تب تو کچھ مواخذہ نہیں، مگر جو کفر کے لیے سینہ کھول دیں گے، اُن پر اللہ کا غضب ہے اور اُنھیں بڑی سخت سزا ہوگی۔‘‘
استاذِ گرامی نے اِس آیت کی شرح میں لکھا ہے:
’’یعنی (اللہ) اُن کو ہدایت نہیں دیا کرتا جو ایمان و اسلام کی صداقت کو سمجھتے ہیں، مگر مشکلات سے گھبرا کر کفر ہی کو اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں۔ اللہ اپنی ہدایت کی راہ اُنھی لوگوں کے لیے کھولتا ہے جو اِس طرح کے حالات میں اگر کبھی بے بس بھی ہو جائیں تو اِس سے آگے نہیں بڑھتے کہ زبان سے کوئی ایسا کلمہ نکال دیں جو وقتی طور پر اُنھیں کسی مصیبت سے بچا لے۔‘‘(البیان 3/ 51)
اِس رعایت سے یہ بات مستنبط ہوتی ہے کہ اگر بندۂ مومن موت یا اذیت سے بچنے کے لیے کوئی ایسا کام کرتا ہے، جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہے تو اُس کی اِس خطا کو معاف کر دیا جائے گا اور آخرت میں وہ مواخذے سے محفوظ رہے گا۔