2۔ جمے ہوئے خون کاجگر ، تلی اور گوشت پر اطلاق

قرآنِ مجید نے ’دَمًا مَّسْفُوْحًا‘ یعنی جمے ہوئے خون کو ممنوع ٹھہرایا ہے۔ اِس میں یہ سوال ہے کہ جگر اور تلی کی نوعیت جمے ہوئے خون کی ہے، اِسی طرح وہ خون جو گوشت میں یا اُس کی شریانوں میں رکا ہوتا ہے، اِن کا حکم کیا ہو گا؟ استاذ ِگرامی نے اِس کے جواب میں لکھا ہے:

’’’...دَمًا مَّسْفُوْحًا‘ کے الفاظ ...کا مفہوم وہی ہے، جو عام بول چال میں اِن الفاظ سے سمجھا جاتا ہے۔تلی اور جگر کے متعلق یہ بات اگرچہ کہی جا سکتی ہے کہ یہ بھی درحقیقت خون ہیں، لیکن عرف استعمال کا تقاضا ہے کہ اِن پر اِس کا اطلاق نہ کیا جائے۔ اِسی طرح ’مَسْفُوْحًا‘ کی قید سے معلوم ہوتا ہے کہ رگوں اور شریانوں میں رکا ہوا خون بھی حرمت کے اِس حکم سے مستثنیٰ ہے۔‘‘ (البیان 1/ 590)