حلال جانوروں کے جسم سے جو چیزیں خارج ہوتی ہیں ، وہ اُن کا بول وبراز اور خون ہے۔ بول و براز کا نجس ہونا تو ہمیشہ سے مسلم رہا ہے، مگرخون کے بارے میں اشتباہ ہو سکتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ذبح سے پہلےوہ جانور کے اُس گوشت کا جز ہوتا ہے، جسے کھانا حلال ہے۔ مزید یہ کہ گوشت کے علاوہ تلی اور جگر کو بھی کھایا جاتا ہے، جن کی حیثیت جمے ہوئے خون کی ہے۔ اِس تناظر میں یہ اشتباہ عین ممکن ہے کہ حلال جانور کے خون کو طیب سمجھ کر کھایا جائے یا غیر طیب سمجھ کر نہ کھایا جائے؟اِس میں واضح فرما دیا ہے کہ دوسری صورت کو اختیار کیا جائے گا۔