احادیث میں تصاویر و تماثیل کی جو حرمت نقل ہوئی ہے، اُس کا سبب بھی شرک ہے۔ زمانۂ رسالت میں اُن کی نوعیت بھی وہم و گمان اور خواہشاتِ نفس پر مبنی شرک کے مظاہر کی تھی۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکانہ مراسم سے وابستہ مجسموں اور تصویروں کو شنیع قرار دیا، اُنھیں گھروں میں آویزاں کرنے اور اللہ کی عبادت گاہوں میں رکھنے سے منع فرمایا اور اُن کے بنانے والے مصوروں کواخروی عذاب سے خبردار کیا۔ اِس ضمن کی چند روایات درجِ ذیل ہیں:
عن ابی طلحۃ رضی اللّٰہ عنہ قال: قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم:”لا تدخل الملائکۃ بیتًا فیہ کلب ولا تصاویر.“(بخاری، رقم5605)
’’حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کتا ہو اور تصاویر ہوں۔‘‘
أخبرنی أبو طلحۃ صاحب الرسول وکان قد شھد بدرًا معہ أنہ قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:”لا تدخل الملائکۃ بیتًا فیہ کلب ولا صورۃ“. یرید صورۃ التماثیل التی فیھا الأرواح. ( بخاری، رقم 3780)
’’مجھے ابو طلحہ نے خبر دی، جو نبی کے صحابی اور جنگِ بدر میں آپ کے ساتھ شریک تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کتا ہو یا مورت ہو، اُن کے نزدیک اِس سے مراد اُن تماثیل کی مورت ہے، جن میں روحیں پائی جاتی تھیں۔ ‘‘
عن عبد اللّٰہ ابن عمر رضی اللّٰہ عنھما أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ”إن الذین یصنعون ھذہ الصور یعذبون یوم القیامۃ، یقال لھم أحیوا ما خلقتم“.
(بخاری، رقم 5951)
’’عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بے شک، وہ لوگ جو اِس قسم کی تصاویر بناتے ہیں، قیامت کے دن عذاب دیے جائیں گے، اُن سے کہا جائے گاکہ جو تم نے بنایا ہے، اُسے زندہ کرو۔‘‘
قال عبد اللّٰہ: سمعت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول:”إن اشد الناس عذابًا یوم القیامۃ المصورون“.
(مسلم، رقم 2109)
’’عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بے شک، قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں گرفتار ہونے والے مصور ہوں گے۔ ‘‘
عن عائشۃ أن أم حبیبۃ وأم سلمۃ ذکرتا کنیسۃً رأینھا بالحبشۃ فیھا تصاویر، فذکرتا لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم . فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:”إن اولئک إذا کان فیھم الرجل الصالح، فمات بنوا علی قبرہ مسجدًا وصوروا فیہ تلک الصور فأولئک شرار الخلق عند اللّٰہ یوم القیامۃ“.
(بخاری، رقم 417)
’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کنیسہ کے بارے میں بیان کیا جس میں تصاویر تھیں اور جسے اُنھوں نے حبشہ میں دیکھا تھا۔(یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِن (عیسائیوں) میں جب کوئی نیک آدمی مر جاتا تو یہ اُس کی قبر پر مسجد بنا دیتے اور اُس مسجد میں یہ خاص تصاویر بناتے تھے۔ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے ہاں بدترین مخلوق قرار پائیں گے۔‘‘
عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما قال: إن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لما قدم أبی أن یدخل البیت و فیہ الاۤلھۃ فأمر بھا فأخرجت فأخرجوا صورۃ إبراہیم و إسماعیل.
(بخاری، رقم1601)
’’ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (فتح مکہ کے لیے شہرمیں) آئے تو آپ نے ’آلھۃ‘ (باطل معبودوں) کی موجودگی میں بیت اللہ میں داخل ہونے سے انکار کر دیا۔ آپ نے اُنھیں نکال دینے کا حکم دیا، چنانچہ وہ نکال دیے گئے۔ (اِس موقع پر) لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام اور اسمٰعیل علیہ السلام کے مجسمے بھی نکالے۔‘‘
اِس تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تماثیل اور تصاویر کو حرام ٹھہرایا، وہ درحقیقت مٹی، پتھر اور لکڑی وغیرہ کے بت اوراُن کی تصویریں تھیں، جن کی پرستش کی جاتی تھی۔