اَوۡفُوا الۡکَیۡلَ وَ لَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِیۡنَ. وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِیۡمِ. وَ لَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡیَآءَہُمۡ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ. وَ اتَّقُوا الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الۡجِبِلَّۃَ الۡاَوَّلِیۡنَ.
(الشعراء 26: 181-184)
’’(میں تم سے کہتا ہوں کہ) پیمانہ پورا بھرو اور کسی کو نقصان دینے والے نہ بنو۔اور سیدھی ترازو سے تولو۔ اور لوگوں کو اُن کی چیزیں گھٹا کر نہ دو۔ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔اور اُس (خدا )سے ڈرو جس نے تمھیں پیدا کیا ہے اور تم سے پہلی نسلوں کو بھی۔‘‘
یہ اللہ کے رسول حضرت شعیب علیہ السلام کی دعوت ہے، جو اُنھوں نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی۔ اُن کی قوم کے لوگ تجارت پیشہ تھے اورلین دین میں عدل و قسط سے منحرف ہو چکے تھے۔ وہ معیشت کے تمام معاملات میں بے ایمانی کرتے تھے۔ ناپ تول میں دغابازی کرتے، اشیا میں ملاوٹ کرتے، ترازو میں ڈنڈی مارتے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ مخلوق کی بھی حق تلفی تھی اور اُس خالق کائنات کی بھی، جس نے زمین و آسمان کو ایک میزانِ عدل پر قائم فرمایا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سیدنا شعیب نے اِسے فساد فی الارض قرار دیا ہے اور اپنی قوم کو بتایا ہے کہ اگر وہ اِس جرم سے باز نہ آئے تو لازماً اللہ کے عذاب کی پکڑ میں آئیں گے۔
قرآنِ مجید سے واضح ہے کہ اللہ نے دنیا کو میزان پر قائم کیا ہے، جس کا لازمی تقاضا عدل و قسط ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَالسَّمَآءَ رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ.
(الرحمٰن55: 7-9)
’’اور اُس نے آسمان کو اونچا کیا اور اُس میں میزان قائم کر دی کہ (اپنے دائرۂ اختیار میں) تم بھی میزان میں خلل نہ ڈالو اور انصاف کے ساتھ سیدھی تول تولو اور وزن میں کمی نہ کرو۔‘‘
ناپ تول میں کامل انصاف اِسی میزانِ عدل کا تقاضا ہے۔ خائن، بے انصاف، کم تولنے والے، ملاوٹ کرنے والے، ڈنڈی مارنے والے لوگ میزانِ عدل کی خلاف ورزی کرتے اور عالم گیر توازن کو درہم برہم کرنے کی جستجو کرتے ہیں۔ اُن کے یہ جرائم اللہ اور اُس کے بندوں کے حقوق تلف کرنے کے جرائم ہیں۔ اللہ نے اِن سے شدت سے منع فرمایا ہے اور اِن کے ارتکاب پر جہنم کی سزا سنائی ہے۔ لہٰذا جو لوگ آخرت میں اچھے انجام کے خواہش مند ہیں، اُن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دائرۂ اختیار میں ہمیشہ انصاف پر قائم رہیں اور کسی بھی قسم کے ناپ تول میں کوئی کمی نہ آنے دیں۔
استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’...اگر کوئی شخص دودھ میں پانی، شکر میں ریت اور گندم میں جو ملا کر بیچتا ہے تو اِسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے، اِس لیے کہ پورا تول کر بھی وہ خریدار کو اُس کی خریدی ہوئی چیز پوری نہیں دیتا۔ یہ درحقیقت دوسرے کے حق پر ہاتھ ڈالنا ہے، جس کا نتیجہ دنیا اور آخرت، دونوں میں یقیناً برا ہو گا۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ پیمانے سے دو تو پورا بھر کر دو اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو، اِس لیے کہ یہی بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی یہی اچھا ہے۔‘‘
(میزان 236)