2۔ ترکِ یسر کا رویہ

یہ رعاعیتیں اللہ کی رحمت و شفقت کا اظہار ہیں۔ اِن کو اللہ کی عنایت کے طور پر پورے احساسِ عجز کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ اِس معاملے میں عزیمت پر اصرار بلا جواز ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص اِن سے فائدہ اٹھانے کے بجاے مشکل پسندی اور مشقت طلبی کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اُس کا یہ عمل اللہ کی رضا کے خلاف ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے واضح فرما دیا کہ وہ انسانوں کے لیے آسانی چاہتا ہے، اُن کے لیے مشکل نہیں چاہتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن رخصتوں اور رعایتوں کو اللہ کی عنایت قرار دیا ہے اور اپنے عمل سے واضح کیا ہے کہ اِن سے مستفید ہونا ہی مطلوب رویہ ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

عجبت مما عجبت منه، فسألت رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم عن ذالك، فقال:”صدقة، تصدق اللّٰه بها عليكم، فاقبلوا صدقته“.

(رقم573)

’’ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بغیر کسی خطرے کے نماز کو قصر کیا) تو مجھے تعجب ہوا، جیسا کہ (‏‏‏‏ یعلیٰ بن امیہ) آپ کو ہوا ہے۔ چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : یہ اللہ کی عنایت ہے، جو اُس نے تم پر کی ہے، سو اللہ کی اِس عنایت کو قبول کرو۔‘‘

‏‏‏‏وعن عائشة رضي اللّٰه عنها قالت: صنع رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم شيئًا فرخص فيه فتنزه عنه قوم فبلغ ذلك رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم فخطب فحمد اللّٰه ثم قال:”ما بال أقوام يتنزهون عن الشيء أصنعه فواللّٰه إني لأعلمهم باللّٰه وأشدهم له خشية .“

(مشكوٰة المصابيح، رقم 146)

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور پھر اُس میں رخصت کی اجازت بھی فرما دی۔ تاہم، بعض لوگوں نے رخصت پر عمل سے اجتناب کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اِس کی اطلاع ملی تو آپ نے لوگوں سے خطاب فرمایا۔ اللہ کی حمد و ثنا کے بعد آپ نے فرمایا: اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ اُس چیز سے پرہیز کرتے ہیں، جسے میں اختیار کرتا ہوں! اللہ کی قسم، میں اللہ کے حکم کو اِن سے بہتر جانتا ہوں اور اِن سے کہیں بڑھ کر اُس سے ڈرتا ہوں۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب دو طریقوں میں انتخاب کا موقع ہوتا تو آپ مقابلتاً آسان راستے کو اختیار فرماتے:

ما خير رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم بين أمرين، أحدهما أيسر من الآخر إلا اختار أيسرهما ما لم يكن إثمًا.( احمد، رقم 25288)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر دو ایسے کاموں میں سے ایک کا انتخاب کرناہوتا، جن میں سے ایک دوسرے کے مقابلے میں آسان ہوتا تو آپ اُن میں سے آسان کاانتخاب فرماتے، اِلاّ یہ کہ اُس میں کوئی گناہ ہو۔‘‘