اِس بات کے واضح ہو جانے کے بعد کہ اللہ کے نام کا ذبیحہ حلال ہو گا اور جو ذبیحہ اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام لے کر کیا جائے گا، وہ حرام ہو گا، یہ سوال باقی رہتا ہے کہ اگر کسی جانور کو ذبح کرتے ہوئے نہ اللہ کا نام لیا جائے اور نہ غیر اللہ کا تو اُس کی نوعیت کیا ہو گی؟ وہ حلال شمار ہو گا یا حرام؟ قرآنِ مجید نے واضح فرمایا ہے کہ اُسے حرام میں شمار کیا جائے گا۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَلاَ تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَ اِنَّہٗ لَفِسْقٌ وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤی اَوۡلِیٰٓئِہِمۡ لِیُجَادِلُوْکُمْ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْھُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ.
(الانعام 6: 121)
’’اُن جانوروں میں سے، البتہ ہرگز نہ کھاؤ جنھیں اللہ کا نام لے کر ذبح نہیں کیا گیا اور یاد رکھو کہ بلاشبہ یہ صریح نافرمانی ہے۔ اور متنبہ رہو کہ شیاطین اپنے ایجنٹوں کو القا کر رہے ہیں کہ وہ (اِس معاملے میں بھی) تم سے جھگڑیں۔ اور متنبہ رہو کہ اگر اِن کا کہا مانو گے تو کچھ شک نہیں کہ تم بھی مشرک ہو کر رہ جاؤ گے۔‘‘
آیت سے واضح ہے کہ اِس حرمت کی وجہ فسق، یعنی نافرمانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پروردگار کا مطلق حکم ہے کہ جانور کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے۔ اب اِس کی نافرمانی کی دو صورتیں اختیار کی جاتی ہیں: ایک یہ کہ اللہ کے بجاے کسی اور کا نام لیا جائے۔ اِس کو ’مَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ‘ سے تعبیر کیا ہے۔ دوسری یہ کہ اللہ کا نام نہ لیا جائے اور خاموشی اختیار کی جائے۔ اِس کو ’مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ‘ کےالفاظ میں بیان فرمایا ہے۔
اِس نافرمانی کے وجوہ کو امام امین احسن اصلاحی نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ اول یہ کہ اللہ کے نام اور اُس کی تکبیر کے بغیر جو کام بھی کیا جاتا ہے، وہ، جیسا کہ ہم آیت بسم اللہ کی تفسیر میں واضح کر چکے ہیں، برکت سے خالی ہوتا ہے۔ خدا کی ہر نعمت سے، خواہ چھوٹی ہو یا بڑی، فائدہ اٹھاتے وقت ضروری ہے کہ اُس پر اُس کا نام لیا جائے تاکہ بندوں کی طرف سے اُس کے انعام و احسان کا اعتراف و اقرار ہو۔ اِس اعتراف و اقرار کے بغیر کوئی شخص کسی چیز پر تصرف کرتا ہے تو اُس کا یہ تصرف غاصبانہ ہے اور غصب سے کوئی حق قائم نہیں ہوتا، بلکہ یہ جسارت اور ڈھٹائی ہے، جو خدا کے ہاں مستوجبِ سزا ہے۔
دوم یہ کہ احترام جان کا یہ تقاضا ہے کہ کسی جانور کو ذبح کرتے وقت اُس پر خدا کا نام لیا جائے۔ جان کسی کی بھی ہو، ایک محترم شے ہے۔ اگر خدا نے ہم کو اجازت نہ دی ہوتی تو ہمارے لیے کسی جانور کی بھی جان لینا جائز نہ ہوتا۔ یہ حق ہم کو صرف خدا کے اِذن سے حاصل ہوا ہے، اِس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ جس وقت ہم اِن میں سے کسی کی جان لیں تو صرف خدا کے نام پر لیں۔ اگر اِن پر خدا کا نام نہ لیں، یا خدا کے نام کے ساتھ کسی اور کا نام لے لیں یا کسی غیر اللہ کے نام پر اِن کو ذبح کر دیں تو یہ اِن کی جان کی بھی بے حرمتی ہے اور ساتھ ہی جان کے خالق کی بھی۔
سوم یہ کہ اِس سے شرک کا ایک بہت وسیع دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ ادیان کی تاریخ پر جن لوگوں کی نظر ہے، وہ جانتے ہیں کہ جانوروں کی قربانی، اُن کی نذر اور اُن کے چڑھاوے کو ابتداے تاریخ سے عبادات میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اِس اہمیت کے سبب سے مشرکانہ مذاہب میں بھی اِس کو بڑا فروغ حاصل ہوا۔ جو قوم بھی کسی غیر اللہ کی عقیدت و نیاز مندی میں مبتلا ہوئی، اُس نے مختلف شکلوں سے اِس غیر اللہ کو راضی کرنے کے لیے جانوروں کی بھینٹ چڑھائی۔ قرآن میں شیطان کی جو دھمکی انسانوں کو گم راہ کرنے کے باب میں مذکور ہوئی ہے، اُس میں بھی، جیسا کہ ہم اُس کے مقام میں واضح کر چکے ہیں، اِس ذریعۂ ضلالت کا شیطان نے خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ اسلام نے شرک کے اُن تمام راستوں کو بند کر دینے کے لیے جانوروں کی جانوں پر اللہ تعالیٰ کے نام کا قفل لگا دیا، جس کو خدا کے نام کی کنجی کے سوا کسی اور کنجی سے کھولنا حرام قرار دے دیا گیا۔ اگر اِس کنجی کے بغیر کسی اور کنجی سے اِس کو کھولنے یا اِس کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو یہ کام بھی ناجائز اور جس جانور پر یہ ناجائز تصرف ہوا ،وہ جانور بھی حرام۔ اِس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں صرف یہی چیز ناجائز نہیں ہے کہ کسی جانور کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا، بلکہ یہ بھی ناجائز ہے کہ کسی جانور کو اللہ کا نام لیے بغیر ہی ذبح کر دیا جائے۔‘‘
(تدبر قرآن 3/ 157- 158)