مشرکین عرب نے حلال جانوروں میں سے بعض نوعیت کے جانوروں کو مقدس قرار دےکر حرام کر رکھا تھا۔ ’بحیرۃ‘ سے مراد وہ اونٹنی تھی، جس سے پانچ بچے پیدا ہو چکے ہوتے اور اُن میں آخری نر ہوتا۔ ’سائبۃ‘ اُس اونٹنی کو کہتے تھے، جسے منت کے پورا ہو جانے کے بعد آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔اِسی طرح بعض لوگ نذر مانتے تھے کہ بکری اگر نر جنے گی تو اُسے بتوں کے حضور پیش کریں گے اور اگر مادہ جنے گی تو اپنے پاس رکھیں گے۔ پھر اگر وہ نر و مادہ، دونوں ایک ساتھ جنتی تو اُس کو ’وصیلۃ‘ کہتے اور ایسے نر کو بتوں کی نذر نہیں کرتے تھے۔’حام‘ وہ سانڈ تھا، جس کی صلب سے کئی پشتیں پیدا ہو چکی ہوتیں، اُسے بھی آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اِن کے بارے میں امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں :
’’یہ سب عربِ جاہلیت کی نذریں اور منتیں تھیں۔ اِس قسم کے جانور آزاد چھوٹے پھرتے، جس گھاٹ سے چاہتے پانی پیتے اور جس کی چراگاہ میں چاہتے پھرتے۔ نہ اِن کو کوئی روک سکتا، نہ چھیڑ سکتا۔ اِن کو مذہبی تقدس کا ایسا درجہ حاصل تھا کہ ہر شخص اِن کے چھیڑنے کے وبال سے لرزہ براندام رہتا۔ ‘‘(تدبر قرآن 2/ 602)
لوگوں نے اِن کے بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اُس نے ایسی کسی چیز کو مشروع نہیں کیا ہے۔باقی جانوروں کی طرح یہ بھی حلال ہیں اور اِنھیں کسی طرح کی تقدیس یا حرمت حاصل نہیں ہے۔ جن لوگوں نے اِن کی حرمت کو شریعت بنا کر پیش کیا ہے، اُنھوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے۔ ارشاد ہے:
مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنۡۢ بَحِیۡرَۃٍ وَّ لَا سَآئِبَۃٍ وَّ لَا وَصِیۡلَۃٍ وَّ لَا حَامٍ ۙ وَّ لٰکِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ وَ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ.
(المائدہ 5: 103)
’’(تمھارے سوال کا جواب بہرحال یہ ہے کہ) اللہ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے، نہ سائبہ، نہ وصیلہ، نہ حام، مگر یہ منکرین اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اِن میں زیادہ وہ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔‘‘