3۔ گواہی کو چھپانا

حق و انصاف کے کسی معاملے میں گواہی کو چھپانا جھوٹ کی بدترین صورت ہے۔ یہ اُس عدل و قسط کے خلاف ہے، جس پر اللہ نے اِس دنیا کو قائم کیا ہے۔ گواہی کی اہمیت اِس قدر غیر معمولی ہے کہ قرآن نے اِسے ’شَھَادَۃَ اللّٰہِ ‘(اللہ کی گواہی) سے تعبیر کیا ہے اور اِسے چھپانے والوں کو عنداللہ گناہ گار قرار دیا ہے۔ سورۂ مائدہ میں وصیت کے حوالے سے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ اُس پر دو گواہ مقرر کر لیے جائیں، لیکن اگر اُن کے بارے میں یہ اندیشہ ہو کہ وہ گواہی کو چھپا سکتے ہیں یا اُس میں ردو بدل کر سکتے ہیں تو اِس سے بچنے کے لیے یہ تدبیر کی جا سکتی ہے کہ اُن سے اللہ کے نام پر قسم لی جائے کہ وہ اپنی گواہی میں کوئی تبدیلی نہ کریں گے اور اگر کوئی تبدیلی کریں گے تو گناہ گار قرار پائیں گے۔ ارشاد ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا شَہَادَۃُ بَیۡنِکُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ حِیۡنَ الۡوَصِیَّۃِ اثۡنٰنِ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ اَوۡ اٰخَرٰنِ مِنۡ غَیۡرِکُمۡ اِنۡ اَنۡتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَاَصَابَتۡکُمۡ مُّصِیۡبَۃُ الۡمَوۡتِ تَحۡبِسُوۡنَہُمَا مِنۡۢ بَعۡدِ الصَّلٰوۃِ فَیُقۡسِمٰنِ بِاللّٰہِ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ لَا نَشۡتَرِیۡ بِہٖ ثَمَنًا وَّ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی وَ لَا نَکۡتُمُ شَہَادَۃَ اللّٰہِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الۡاٰثِمِیۡنَ.

(المائدہ 5: 106)

’’ایمان والو، تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو اُس کے لیے تمھارے درمیان گواہی اِس طرح ہو گی کہ تم میں سے دو ثقہ آدمی گواہ بنائے جائیں یا اگر تم کہیں سفر میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت آ پہنچے تو تمھارے غیروں میں سے دو گواہ لے لیے جائیں۔ (پہلی صورت میں)، اگر تمھیں (اُن کے بارے میں) کوئی شبہ ہو جائے تو تم اُنھیں نماز کے بعد روک لو گے، پھر وہ اللہ کی قسم کھائیں گے کہ ہم اِس گواہی کے بدلے میں کوئی قیمت قبول نہ کریں گے، اگرچہ کوئی قرابت مند ہی کیوں نہ ہو، اور نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے۔ ہم نے ایسا کیا تو گناہ گاروں میں شمار ہوں گے۔‘‘

قرض اور رہن کے معاملے میں بھی ایک طرف گواہ مقرر کرنے کی ہدایت فرمائی ہے اور دوسری طرف گواہ کو گواہی چھپانے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:

وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ عَلٰی سَفَرٍ وَّ لَمۡ تَجِدُوۡا کَاتِبًا فَرِہٰنٌ مَّقۡبُوۡضَۃٌ ؕ فَاِنۡ اَمِنَ بَعۡضُکُمۡ بَعۡضًا فَلۡیُؤَدِّ الَّذِی اؤۡتُمِنَ اَمَانَتَہٗ وَ لۡیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ ؕ وَ لَا تَکۡتُمُوا الشَّہَادَۃَ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡتُمۡہَا فَاِنَّہٗۤ اٰثِمٌ قَلۡبُہٗ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ .

(البقرہ2: 283)

’’اور اگر تم سفر میں ہو اور تمھیں کوئی لکھنے والا نہ ملے تو قرض کا معاملہ رہن قبضہ کرانے کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔ پھر اگر ایک دوسرے پر بھروسے کی صورت نکل آئے تو جس کے پاس (رہن کی وہ چیز) امانت رکھی گئی ہے، وہ یہ امانت واپس کر دے اور اللہ، اپنے پروردگار سے ڈرتا رہے (اور اِس معاملے پر گواہی کرا لے)، اور گواہی (جس صورت میں بھی ہو، اُس) کو ہرگز نہ چھپاؤ اور (یاد رکھو کہ) جو اُسے چھپائے گا، اُس کا دل گناہ گار ہو گا، اور (یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے جانتا ہے۔‘‘