3۔ اضطرار و اکراہ میں رخصت کے حدود

رخصت کے معنی کسی کام سے روکنے کے بعد اُس کی اجازت دینے کے ہیں۔ یہ سختی کے ضد کے طور پر مستعمل ہے۔ چنانچہ شریعت اگر کسی کام میں آسانی پیدا کر دے تو اُس کے لیے ’رخص الشرع فی کذا ترخیصًا‘ کا اسلوب اختیار کیاجاتا ہے۔ اصطلاح میں اِس سے مراد یہ ہے کہ مکلف کو کسی عذر کی وجہ سے حرام کے استعمال کی اجازت دے دی جائے۔ ’رخصت‘ کا لفظ ’عزیمت‘ کے مقابلے میں آتا ہے اور خصوص پر دلالت کرتا ہے۔ اِس اعتبار سے یہ شریعت کے جملہ احکام تکلیفیہ میں حالتِ اضطرار کے مستثنیات کو شامل ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اضطرار و اکراہ اگر اوامر و نواہی کے ساتھ مستلزَم ہو جائیں تو اُن میں تخفیف، ترخیص، اجازت، رعایت اور استثناکی گنجایش پیدا کر دیتے ہیں۔

رخصت کے نتیجے میں کوئی حرام شے حلال نہیں ہو جاتی، فقط اُس کی عقوبت اٹھا لی جاتی ہے۔ چنانچہ حکم کا تقاضا ہے کہ اِس سے بہ قدر ِضرورت استفادہ کیا جائے اور بہ کراہت استعمال کیا جائے تاکہ حرمت کا احساس پوری طرح قائم رہے۔ درجِ بالا آیات میں اِس امر کی نہایت صراحت سے تاکید فرمائی ہے۔

سورۂ بقرہ میں ’غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ‘ کا اسلوب اختیار کیا ہے۔ یعنی نہ دل میں اُس کو استعمال کرنے کی خواہش ہونی چاہیے اور نہ استعمال کرتے ہوئے ضرورت کی حد سے تجاوز کرنا چاہیے۔ سورۂ مائدہ میں ’غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حرام کی چاہت کا کوئی میلان نہیں ہونا چاہیے۔ یہ احساس قائم رہنا چاہیے کہ یہ کام اصلاً گناہ ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے مجبوری کی رعایت دیتے ہوئے اِس میں رخصت عطا فرما دی ہے۔ امام امین احسن اصلاحی اِن اسالیب کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’... ’غَيْرَ مُتَجَانِفٍ‘ کی قید اُسی مضمون کو ظاہر کر رہی ہے، جو دوسرے مقام میں ’غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ‘ سے ادا ہوا ہے...’غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ‘ کی قید اِس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ رخصت بہرحال رخصت ہے اور حرام بہرشکل حرام ہے۔ نہ کوئی حرام چیز شیر مادر بن سکتی، نہ رخصت کوئی ابدی پروانہ ہے۔ اِس وجہ سے یہ بات کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ رفع اضطرار کی حد سے آگے بڑھے۔ اگر اِن پابندیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی شخص کسی حرام سے اپنی زندگی بچا لے گا تو اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اگر اِس اجازت سے فائدہ اٹھا کر اپنے حظِ نفس کی راہیں کھولے گا تو اِس کی ذمہ داری خود اُس پر ہے، یہ اجازت اُس کے لیے قیامت کے دن عذر خواہ نہیں بنے گی۔ ‘‘ (تدبر قرآن 2/458)

سورۂ نحل کی مذکورہ آیت (106)میں ’وَ لٰکِنۡ مَّنۡ شَرَحَ بِالۡکُفۡرِ صَدۡرًا فَعَلَیۡہِمۡ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ‘ کے الفاظ میں تنبیہ فرمائی ہے کہ جو شخص اکراہ کے ایسے کسی موقع پر اپناسینہ کفر کے لیے کھول دے اور محرمات کو ظاہری قول و فعل سے آگے بڑھ کر دل سے بھی قبول کر لے تو یہ ایمان سے انحراف ہے۔ ایسے شخص کے لیے اللہ کا غضب مقدر ہے، چنانچہ اُسےاخروی عذاب کا سامناکرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ امام امین احسن اصلاحی اِس مقام کے تحت لکھتے ہیں:

’’ ... فرمایا کہ جو لوگ اعداے حق کے شکنجہ میں ہیں، اُن کے لیے اِس بات کی تو گنجایش ہے کہ وہ قلباً ایمان پر جمے رہتے ہوئے محض زبان سے کوئی کلمہ ایسا نکال دیں، جس سے اُن کی جان کے اِس مصیبت سے چھوٹ جانے کی توقع ہو۔ لیکن اِس بات کی گنجایش نہیں ہے کہ وہ اِس جبر و ظلم کو بہانہ بنا کر اپنا سینہ کفر ہی کے لیے کھول دیں۔ جو لوگ ایسا کریں گے، فرمایا کہ اُن پر اللہ کا غضب اور بہت بڑا عذاب ہے۔ اُن کا ایک مرتبہ ایمان کی طرف آ جانا اِس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اِس چیز کی صحت و صداقت اُن پر واضح ہو چکی ہے۔ اِس کے بعد اِس بات کی تو گنجایش باقی رہتی ہے کہ آدمی اِسی کے تحفظ کے پہلو سے کوئی ایسی تدبیر اختیار کر سکے، جو بہ ظاہر اِس کے خلاف ہو، لیکن اِس بات کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی کہ آدمی اِس سے کلیۃً دست بردار ہو کر کفر ہی کو اوڑھنا بچھونا بنا لے۔ فرمایا کہ جو لوگ تن آسانی کی یہ راہ اختیار کریں گے، اُن پر خدا کا غضب اور اُن کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘(تدبر قرآن 4/453-454)

اِس سے اگلی آیت میں غضب اور عذاب کا یہ سبب بیان فرمایا ہے کہ ا گر کسی نے ایسا کیا ہے تو گویا اُس نے دنیوی زندگی کو اخروی زندگی پر ترجیح دی ہے اور مشکل کو بنیاد بنا کر اپنے آپ کو کفر کے حوالے کر دیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا عَلَی الۡاٰخِرَۃِ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ. (النحل16 : 107)

’’یہ اِس لیے کہ اُنھوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو عزیز رکھا اور اِس لیے کہ اِس طرح کے منکر لوگوں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔‘‘

اِس سے واضح ہے کہ اکراہ میں ناحق کے اظہار کی گنجایش زبان اور ظاہر کی حد تک ہے، دلی طور پر اور باطنی لحاظ سے قبولیت کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔وہ لوگ اللہ کی ہدایت سے محروم ہوں گے، جو مشکلات سے گھبرا کر کفر ہی کو اپنا ملجا و ماویٰ بنا لیتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے فقہا نے اِس کو بہ طورِ اصول اختیار کیا ہے کہ ممنوع چیز کا جواز عذر کے ساتھ مشروط ہے، عذر کے ختم ہوتے ہی جواز بھی ختم ہو جاتا ہے:

ما جاز لعذر بطل بزوالہ.

(الاشباہ والنظائر، سیوطی 85)

’’جو چیز عذر کی بنا پر جائز ہوئی ہے، عذر ختم ہونے کے بعد وہ جائز نہیں رہے گی۔‘‘