3۔ خمر سے مراد

شراب کی ممانعت کے لیے قرآنِ مجید نے ’خمر‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اِس کے لغوی معنی انگور کی شراب کے ہیں ۔ اِس بنا پر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شریعت نے صرف انگور کی شراب کو حرام قرار دیا ہے۔ یہ خیال دو دلائل کی بنا پر غلط ہے۔ ایک یہ کہ نشہ عقل کی نجاست ہونے کی بنا پر بہ ذاتِ خود خبائث میں شامل ہے، لہٰذا شراب کسی چیز سے بھی کشید کی جائے، اگر وہ نشہ آور ہے تو لازماً حرام ہو گی۔ دوسرے یہ کہ’خمر‘ کا لفظ اپنے معروف معنی میں ہر طرح کی شراب کے لیے مستعمل ہے اور ہر زبان میں معنی کی تعیین کے لیے معروف اور مستعمل مطالب کا اعتبار ہوتا ہے۔ چنانچہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

كل مسكر خمر وكل مسكر حرام.

(مسلم، رقم 5219)

’’‏‏‏ہر نشہ آور خمر ہے اور ہر نشہ آور حرام ہے۔“