’وَ مَا جَعَلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ مِنۡ حَرَجٍ‘(اور شریعت میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ہے) اور ’یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلاَ یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ‘ (اللہ تمھارے لیے آسانی چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ تمھارے ساتھ سختی کرے) کے نصوص سے واضح ہے کہ شریعت میں رفع حرج کو مستقل اصول کی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ تنگی کے کسی معاملے میں اگر رخصت کا کوئی حکم شریعت میں مذکور نہیں ہے یا حکم تو موجود ہے، مگر اُس کی جزئیات و تفصیلات کا تعین نہیں کیا گیا یا حالات کی تبدیلی سے اطلاق کی بعض نئی صورتیں پیدا ہو گئی ہیں تو شریعت کے اِس اصول کو بنیاد بنا کر آسانی کی راہ تلاش کرنا دین کے منشا کے مطابق ہو گا۔ اِس معاملے میں منصوص رخصتوں پر قیاس کرتے ہوئے اشتراکِ علت کی بنیاد پر رخصت کی کوئی صورت اختیار کر لی جائے گی۔
ہمارےبیش تر فقہا اِس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ منصوص رخصتوں پر غیر منصوص رخصتوں کو قیاس کرنا درست ہے، چنانچہ مثال کے طور پر اگر کوئی روزہ دار غلطی سے یا اکراہ کی وجہ سے کچھ کھا لے تو اُن کے نزدیک اِس عمل کو بھول کر افطار کرنے پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔ امام شافعی نے نماز میں سہواً کلام کرنے کو بھی بھول کر روزہ افطار کرنے کی اِسی دلیل پر قیاس کیاہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ