3۔ قبروں کی تقدیس

بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کی بیخ کنی کے لیےقبروں پر گنبد بنانے، اُنھیں مشرکانہ مراسم کی غرض سے پختہ کرنے،اُنھیں مسجد کا مقام دینے اور اُن کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے سے فرمایا۔اِس کے باوجود اگر ایسا سلسلہ جاری رہا تو آپ نے اِس نوعیت کی قبروں کو مسمار کر دینے کا حکم ارشاد فرمایا۔ روایات درجِ ذیل ہیں:

عن جابر رضی اللّٰہ عنہ قال: نھی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن یجصص القبر وأن یقعد علیہ وأن یبنی علیہ. (مسلم، رقم 970)

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس سے منع فرمایا کہ قبروں کو پختہ کیا جائے اور اِس سے کہ لوگ اُن پر بیٹھیں اور اِس سے کہ اُن پر گنبد بنائیں۔‘‘

ألا من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور أنبیائھم وصالحیھم مساجد، إنی أنھاکم عن ذالک.

(مسلم، رقم 532)

’’(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے ) خبردار رہو، تم سے پہلے لوگ اپنے پیغمبروں اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد بنا لیتے تھے۔ (کہیں تم قبروں کو مسجد نہ بنانا) میں تم کو اِس بات سے منع کرتا ہوں۔‘‘

عن أبی مرثد الغنوی رضی اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:”لا تجلسوا علی القبور ولا تصلوا إلیھا“.

(مسلم،رقم972)

’’ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبروں پر نہ بیٹھو اور اُن کی طرف رخ کر کے نماز نہ پڑھو۔‘‘

عن أبی الھیاج الأسدی قال: قال لی علی بن أبی طالب: ألا أبعثک علی ما بعثنی علیہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن لا تدع تمثالاً إلا طمستہ ولا قبرًا مشرفًا إلا سویتہ. (مسلم، رقم 969)

’’ابی الہیاج اسدی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمھیں اُس مہم پر نہ بھیجوں، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا؟ یعنی یہ کہ کوئی تمثال نہ چھوڑو، مگریہ کہ اُس کو مٹا دو اور کوئی بلند قبر نہ چھوڑو،مگر یہ کہ اُس کو زمین کے برابر کر دو۔‘‘