انسان کی زندگی اُس کا پیدایشی حق ہے۔ یہ حق زمین و آسمان کے خالق نے اُسےعطا فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب و اخلاق کی رو سے انسانی جان کو ہمیشہ حرمت حاصل رہی ہے اور اللہ نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر فرمایا ہے۔ سورۂ مائدہ میں ارشاد ہے:
مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا. (5: 32)
’’(انسان کی) یہی (سرکشی) ہے جس کی وجہ سے ہم نے (موسیٰ کو شریعت دی تو اُس میں) بنی اسرائیل پربھی اپنا یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا، اِس کے بغیر کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں کوئی فساد برپا کیا ہو تو اُس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک انسان کو زندگی بخشی، اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘
انسانی جان کے خلاف تعدی صریح زیادتی ہے۔ قرآنِ مجید نے اِسےظلم اور عدوان سے تعبیر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اِس کے مرتکب کو سخت بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا جائے گا:
وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا.وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ عُدۡوَانًا وَّ ظُلۡمًا فَسَوۡفَ نُصۡلِیۡہِ نَارًا ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا.
(النساء 4: 29- 30)
’’اور نہ ایک دوسرے کو قتل کرو۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔ اور (یاد رکھو کہ) جو لوگ ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کریں گے، اُن کو ہم ضرور ایک سخت بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دیں گے، اور یہ اللہ کے لیے بہت ہی آسان ہے۔‘‘
’عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا‘ کے الفاظ سے اِس کا’بَغۡی ‘ (نا حق زیادتی) ہونا پوری طرح واضح ہے۔ ظلم سے مراد یہ ہے کہ بے انصافی کرتے ہوئے کسی شخص کو اُس کے لازمی حق سے محروم کر دیا جائے، عدوان یہ ہے کہ جبر و قہر سے کسی کے حق کو پامال کر دیا جائے۔
مذکورہ آیت میں فرمایا ہے کہ قتل کے مجرم کو بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا، آگے اِسی سورہ میں ارشاد ہے کہ ایسا کرنے والا اللہ کے غضب اور لعنت کا مستحق ٹھہرے گا اور ابدی جہنم کا سزاوار ہو گا:
وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیْہَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا .
(النساء 4: 93)
’’اُس شخص کی سزا، البتہ جہنم ہے، جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے، وہ اُس میں ہمیشہ رہے گا، اُس پر اللہ کا غضب اور اُس کی لعنت ہے اور اُس کے لیے اُس نے ایک بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘
یہ اِس جرم کی اخروی سزا ہے، اِس کی دنیوی سزا بھی شریعت میں مقرر ہے۔ یہ سزا قصاص ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہےکہ اگر کسی نے ظلم و زیادتی کرتے ہوئے ایک انسان کی جان کو تلف کیا ہے تو سزا کے طور پر اُس کی جان بھی تلف کی جائے گی۔ ارشاد فرمایا ہے:
یَٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی، اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی، فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ. ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ رَحْمَۃٌ، فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ. وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ، لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ.
(البقرہ 2 :178- 179)
’’ایمان والو، (تم میں) جو لوگ قتل کر دیے جائیں، اُن کے مقدموں میں قصاص تم پر فرض کیا گیا ہے۔ اِس طرح کہ قاتل آزاد ہو تو اُس کے بدلے میں وہی آزاد، غلام ہو تو اُس کے بدلے میں وہی غلام، عورت ہو تو اُس کے بدلے میں وہی عورت۔ پھر جس کے لیے اُس کے بھائی کی طرف سے کچھ رعایت کی جائے (تو اُس کو تم قبول کر سکتے ہو، لیکن یہ قبول کر لی جائے) تو دستور کے مطابق اُس کی پیروی کی جائے گی اور جو کچھ بھی خون بہا ہو، وہ خوبی کے ساتھ اُسے ادا کر دیا جائے گا۔ یہ تمھارے پروردگار کی طرف سے ایک قسم کی رعایت اور تم پر اُس کی عنایت ہے۔ پھر اِس کے بعد جو زیادتی کرے تو اُس کے لیے (قیامت میں) دردناک سزا ہےــــــ۔ اور تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے، عقل والو، تاکہ تم حدود الٰہی کی پابندی کرتے رہو۔‘‘
دوسرے انسانوں کے جسمانی اعضاکو تلف کرنا یا نقصان پہنچانا بھی انسانی جان کے خلاف اقدام کی ایک فرع ہے، اِس لیے اِسے بھی قصاص کے قانون میں شامل کیا گیا ہے۔ فرمایا ہے:
وَکَتَبْنَا عَلَیْھِمْ فِیْھَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ، فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ، وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ. (المائدہ 5: 45)
’’اور اِسی کتاب میں ہم نے اِن پر فرض کیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور اِسی طرح دوسرے زخموں کا بھی قصاص ہے۔ پھر جس نے اُسے معاف کر دیا تو اُس کے لیے وہ کفارہ بن جائے گا۔ (یہ اللہ کا قانون ہے) اور جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں، وہی ظالم ہیں۔‘‘