3۔ عریانی

سورۂ اعراف کے حوالےسے اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ ’فَاحِشَۃ‘ کا لفظ اُس عریانی اور برہنگی کے لیے استعمال ہوا ہے، جو قریش کے لوگ بیت اللہ کے طواف کے دوران میں اختیار کرتے تھے۔ فرمایا ہے:

وَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَیۡہَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ. (7: 28)

’’یہ لوگ جب کسی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم نے اپنے باپ دادا کو اِسی طریقے پر پایا ہے اور خدا نے ہمیں اِسی کا حکم دیا ہے۔ اِن سے کہو، اللہ کبھی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ پر افترا کرکے ایسی باتیں کہتے ہو، جنھیں تم نہیں جانتے؟ ‘‘

استاذِ گرامی نے اِس کے بارے میں لکھا ہے:

’’اصل میں لفظ ’فَاحِشَۃ‘ استعمال ہوا ہے۔ آگے کی آیات سے واضح ہو جاتا ہے کہ اِس سے بے حیائی کے اُن کاموں کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مذہب کے نام پر کیے جاتے تھے۔ اِس طرح کی چیزیں مشرکین کے معبدوں اور صوفیانہ مذاہب کی درگاہوں اور عبادت گاہوں میں عام رہی ہیں۔ یہ پروہتوں، پجاریوں اور مجاوروں کی شیطنت سے وجود میں آتی تھیں۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب جاہلی میں بھی اِسی نوعیت کی ایک بدعت بیت اللہ کے برہنہ طواف کی رائج تھی۔ لوگ اِسے مذہبی فعل سمجھ کر کرتے تھے اور اُن کا خیال تھا کہ اُنھیں خدا نے اِس کا حکم دیا ہے۔ ‘‘(البیان 2/ 144)

ما قبل آیت میں نوعِ انسانی کے اجداد ـــــ آدم و حوا ـــــ کے اُس واقعے کا حوالہ دیا ہے، جب شیطان نے اپنی ترغیب سے اُن کے لباس اتروا لیے تھے، جس کے نتیجے میں اُن کی شرم گاہیں اُن پر کھل گئی تھیں۔ چنانچہ بنی آدم کو تنبیہ فرمائی ہے کہ وہ شیطان کے اِس حملے سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں تاکہ فواحش کی آلودگی سے محفوظ ہو کر تقوے کی پاکیزگی کو حاصل کر سکیں۔ ارشاد ہے:

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ لَا یَفۡتِنَنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ کَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَیۡکُمۡ مِّنَ الۡجَنَّۃِ یَنۡزِعُ عَنۡہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوۡاٰتِہِمَا.

(الاعراف 7: 27)

’’آدم کے بیٹو، ایسا ہرگز نہ ہو کہ شیطان تمھیں اُسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے، جس طرح اُس نے تمھارے ماں باپ کو اُس باغ سے نکلوا دیا، (جس میں خدا نے اُنھیں ٹھیرایا تھا)، اُن کا یہی لباس اتروا کر کہ اُن کی شرم گاہیں اُن پر کھول دے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس پہلو کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’... اِس کے اسلوبِ بیان سے شیطان کی اُس چال کے سمجھنے میں مدد ملتی ہے، جو وہ بنی آدم کے تمدن کو برباد کرنے اور بالآخر اُن کو خدا کی نعمت سے محروم کر کے ہلاکت کے گڑھے میں گرانے کے لیے اختیار کرتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اپنی وسوسہ اندازیوں سے پہلے لوگوں کو اُس لباسِ تقویٰ و خشیت سے محروم کرتا ہے، جو اللہ نے بنی آدم کے لیے اِس ظاہری لباس کے ساتھ ایک تشریفِ باطنی کی حیثیت سے اتارا ہے اور جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ جب یہ باطنی جامہ اتر جاتا ہے تو وہ حیا ختم ہو جاتی ہے، جو اِس ظاہری لباس کی اصل محرک ہے۔ پھر یہ ظاہری لباس ایک بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے۔ بے حیائی صنفی اعضا میں، جن کا چھپانا تقاضا ے فطرت ہے، عریاں ہونے کے لیے تڑپ پیدا کرتی ہے، پھر فیشن اُس کو سہارا دیتا ہے اور وہ لباس کی تراش خراش میں نت نئی اختراعات سے ایسے ایسے اسلوب پیدا کرتا ہے کہ آدم کے بیٹے اور حوا کی بیٹیاں کپڑے پہن کر بھی لباس کے بنیادی مقصد، یعنی سترپوشی کے اعتبار سے گویا ننگے ہی رہتے ہیں۔ پھر لباس میں صرف زینت اور آرایش کا پہلو باقی رہ جاتا ہے اور اُس میں بھی اصل مدعا یہ ہوتا ہے کہ بے حیائی زیادہ سے زیادہ دل کش زاویے سے نمایاں ہو۔ پھر آہستہ آہستہ عقل اِس طرح ماؤف ہو جاتی ہے کہ عریانی تہذیب کا نام پاتی ہے اور ساتر لباس وحشت و دقیانوسیت کا۔ پھر پڑھے لکھے شیاطین اٹھتے ہیں اور تاریخ کی روشنی میں یہ فلسفہ پیدا کرتے ہیں کہ انسان کی اصل فطرت تو عریانی ہی ہے۔ لباس تو اُس نے رسوم و رواج کی پابندیوں کے تحت اختیار کیا ہے۔ یہ مرحلہ ہے، جب دیدوں کا پانی مر جاتا ہے اور پورا تمدن شہوانیت کے زہر سے مسموم ہو جاتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن3/ 246- 247)

عریانی اور برہنگی سے بچنے کے لیے قرآنِ مجید نےحفظِ فروج کا حکم دیا ہے۔ مردوں اور عورتوں، دونوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ وہ باہمی اختلاط کے موقعوں پر اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ ارشاد فرمایا ہے:

قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ وَ یَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَزۡکٰی لَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ. وَ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَ یَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ.

(النور 24: 30-31)

’’(اے پیغمبر)، اپنے ماننے والوں کو ہدایت کرو کہ (اِن گھروں میں عورتیں ہوں تو) اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ جو کچھ وہ کرتے ہیں، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔ اور ماننے والی عورتوں کو ہدایت کرو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں، سواے اُن کے جو اُن میں سے کھلی ہوتی ہیں اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔‘‘

ان آیتوں میں حفظ ِفروج سے مراد یہ ہےکہ شرم گاہوں کو دوسروں کے سامنے ہرگز نہ کھولا جائے اور ایسا لباس زیب تن کیا جائے جو اُنھیں پورے اہتمام سے ڈھانپ کر رکھے۔ استاذِ گرامی لکھتے ہیں:

’’یعنی اُن پر پہرا بٹھا دیں۔ چنانچہ اُن کو نہ دوسروں کے سامنے کھولیں، نہ اُن کے اندر دوسروں کے لیے کوئی میلان پیدا ہونے دیں۔ عورتیں اور مرد ایک جگہ موجود ہوں تو چھپانے کی اِن جگہوں کو اور بھی زیادہ اہتمام کے ساتھ چھپائیں اور ہمیشہ ایسا لباس پہنیں جو زینت کے ساتھ صنفی اعضا کو بھی اچھی طرح چھپانے والا ہو۔‘‘

(البیان3/ 432)

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے عریانی اور برہنگی کی اُن تمام صورتوں سے اپنی بے زاری اور ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا، جو دین ومذہب، تہذیب و تمدن اور تفریح و تفنن کے نام سے لوگوں میں رائج ہو جاتی ہیں۔

أن عبد اللّٰه بن الحارث بن جزء الزبيدي حدثه أنه مر وصاحب له بأيمن وفئة من قريش قد حلوا أزرهم فجعلوها مخاريق يجتلدون بها وهم عراة، قال عبد اللّٰه: فلما مررنا بهم قالوا: إن هؤلاء قسيسون فدعوهم ثم إن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه و سلم خرج عليهم فلما أبصروه تبددوا فرجع رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه و سلم مغضباً حتى دخل وكنت أنا وراء الحجرة فسمعته يقول:”سبحان اللّٰه، لا من اللّٰه استحيوا ولا من رسوله استتروا“ وأم ايمن عنده تقول: استغفر لهم يا رسول اللّٰه، قال عبد اللّٰه : فبلأي ما استغفر لهم.

(احمد، رقم 17748)

”عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ ایمن اور قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے، جنھوں نے اپنے تہ بند اتار کر اُن کے گولے بنا لیے تھے اور اُن سے کھیلتے ہوئے ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ چنانچہ بالکل برہنہ تھے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم جب اُن کے پاس سے گزرے تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: اِنھیں چھوڑو ، یہ تو پادری ہیں۔ اِسی اثنا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی باہر نکل آئے۔ اُن لڑکوں نے آپ کو دیکھا تو فوراً منتشر ہوگئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں واپس گھر چلے گئے۔ میں اُس وقت حجرے کے باہر تھا۔ چنانچہ میں نے سنا کہ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ، اِنھوں نے اللہ سے شرم کی، نہ اُس کے رسول سے ڈرے۔ ام ایمن اِس موقع پر آپ کے پاس کھڑی ہوئی کہہ رہی تھیں: یا رسول اللہ، اِن کے لیے مغفرت کی دعا فرمائیے۔ عبداللہ کہتے ہیں: لیکن تردد کے بعد آپ نے اُن کے لیے یہ دعا فرمائی۔‘‘

اِس روایت سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سرعام اِس طرح کی برہنگی آپ کوکس قدر ناپسند تھی۔