فحش گوئی بھی ایک نوعیت کی برہنگی ہے۔ صنفی اعضا کی بے پردگی جس طرح بصارت کے ذریعے سے جنسی جذبات کو انگیخت کرتی ہے، بے شرمی کی گفتگو یہی کام سماعت کے ذریعے سے انجام دیتی ہے۔ اِس کے ساتھ جب لطائف، شاعری اور موسیقی کے فنون کی آمیزش ہو جائے تو اِس کی ا ثر انگیزی شدید تر ہو جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس بنا پرفحش گوئی کو بداخلاقی سے تعبیر فرمایا اور اِس کے مرتکب کو دوزخ کی وعید سنائی ہے:
عن أبي هريرة قال : قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه و سلم:”الحياء من الإيمان والإيمان في الجنة والبذاء من الجفاء والجفاء في النار“.
(ترمذی، رقم 2009)
’’ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حیا ایمان ہی کا جز ہے،اور ایمان کا صلہ جنت ہے۔ اور فحش گوئی نری بداخلاقی ہے اور بداخلاقی دوزخ میں لے جائے گی۔‘‘