4۔ غیر اللہ کے لیے ذبیحہ میں اشتباہ کی نوعیت

کھانے کے طیب جانوروں میں سے اگر کسی کو ذبح کرنا مقصود ہو تو یہ اللہ ہی کا حق ہے کہ اُس کے نام پر اُس کی جان لی جائے۔ الہامی شریعتوں میں یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ لیکن اگر کوئی ایسا ذبیحہ سامنے آ جائے، جسے اللہ کے نام پر ذبح نہ کیا گیا ہو یا اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام سے ذبح کیا گیا ہوتو کیا اِس کا شمار طیبات میں ہو گا؟ اس میں یہ خیال ہو سکتا ہے کہ چونکہ وہ جانور بھی طیب ہے اور اُس کا تذکیہ بھی کر لیا گیا ہے، اِس لیے نام لینے کے عمل کو انسان کے ذاتی فعل پر محمول کر کے اُسے کھا لیا جائے۔ اللہ نے واضح فرما دیا ہےکہ اِس کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ اِس کا شمار طیبات میں نہیں ، بلکہ خبائث میں ہو گا۔

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ اللہ نے فقط اُن چیزوں کے معاملے میں رہنمائی فرمائی ہے، جن میں ابہام یا التباس پیدا ہو سکتا تھا۔

استاذِ گرامی لکھتے ہیں:

’’... اِس باب میں شریعت کا موضوع صرف وہ جانور اور اُن کے متعلقات ہیں، جن کے طیب یا خبیث ہونے کا فیصلہ تنہا عقل و فطرت کی رہنمائی میں کر لینا انسانوں کے لیے ممکن نہ تھا۔ سؤر انعام کی قسم کے بہائم میں سے ہے، لیکن وہ درندوں کی طرح گوشت بھی کھاتا ہے،پھر اُسے کیا کھانے کا جانور سمجھا جائے یا نہ کھانے کا؟ وہ جانور جنھیں ہم ذبح کر کے کھاتے ہیں، اگر تذکیے کے بغیر مر جائیں تو اُن کا حکم کیا ہونا چاہیے؟ اِنھی جانوروں کا خون کیا اِن کے بول و براز کی طرح نجس ہے یا اُسے حلال و طیب قرار دیا جائے گا ؟ یہ اگر اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کر دیے جائیں تو کیا پھر بھی حلال ہی رہیں گے؟ اِن سوالوں کا کوئی واضح اور قطعی جواب چونکہ انسان کے لیے دینا مشکل تھا، لہٰذا وہ اِس معاملے میں غلطی کر سکتا تھا۔ آیت میں ’عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ‘کے الفاظ اِسی حقیقت پر دلالت کے لیے آئے ہیں۔چنانچہ یہی ضرورت ہے، جس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے ذریعے سے اُسے بتایا کہ سؤر، خون، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور بھی کھانے کے لیے پاک نہیں ہیں اور انسان کو اُن سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ‘‘

(میزان 633- 634)