حسب ونسب معاشرت کی اساس ہیں۔ اِن کے نتیجے میں رشتے وجود میں آتےہیں۔ اِنھی سے انسانوں میں حفظِ مراتب کا شعور پیدا ہوتا، جان پہچان کے امتیازات قائم ہوتے اور شادی بیاہ کی تحلیل وتحریم کے حدود متعین ہوتے ہیں۔ چنانچہ دین نے ماں اور باپ کی نسبتوں کو غیر معمولی اہمیت دی ہے اور ایسے اقدامات سے منع فرمایا ہے، جو والدین کی تعیین میں اشتباہ کا باعث بن سکتے ہیں۔ حضرت زید بن حارثہ سےمتعلق ایک خاص واقعے کے تناظر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلۡبَیۡنِ فِیۡ جَوۡفِہٖ ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزۡوَاجَکُمُ الّٰٓئِ تُظٰہِرُوۡنَ مِنۡہُنَّ اُمَّہٰتِکُمۡ ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدۡعِیَآءَکُمۡ اَبۡنَآءَکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ قَوۡلُکُمۡ بِاَفۡوَاہِکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَقُوۡلُ الۡحَقَّ وَ ہُوَ یَہۡدِی السَّبِیۡلَ. اُدۡعُوۡہُمۡ لِاٰبَآئِہِمۡ ہُوَ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ فَاِخۡوَانُکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ مَوَالِیۡکُمۡ ؕ وَ لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ فِیۡمَاۤ اَخۡطَاۡتُمۡ بِہٖ وَ لٰکِنۡ مَّا تَعَمَّدَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا.
(الاحزاب 33: 4-5)
’’اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے ہیں (کہ ایک ہی وقت میں وہ دو متضاد باتوں کو مانتا رہے)۔ چنانچہ نہ اُس نے تمھاری اُن بیویوں کو جن سے تم ظہار کر بیٹھتے ہو، تمھاری مائیں بنایا ہے اور نہ تمھارے منہ بولے بیٹوں کو تمھارا بیٹا بنادیا ہے۔ یہ سب تمھارے اپنے منہ کی باتیں ہیں، مگر اللہ حق کہتا ہے اور وہی سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ تم منہ بولے بیٹوں کو اُن کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہی اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف ہے۔ پھر اگر اُن کے باپوں کا تم کو پتا نہ ہو تو وہ تمھارے دینی بھائی اور تمھارے حلیف ہیں۔ تم سے جو غلطی اِس معاملے میں ہوئی ہے، اُس کے لیے توتم پر کوئی گرفت نہیں، لیکن تمھارے دلوں نے جس بات کا ارادہ کر لیا، اُس پر ضرور گرفت ہے۔ اور اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر فرمایا ہے:
من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير ابيه، فالجنة عليه حرام.
(بخاری، رقم 6766)
’’جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کی اولاد ہونے کا دعویٰ کیا، دراں حالیکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اُس کی اولاد نہیں ہے، تو جنت اُس پر حرام ہے۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی نے سورۂ احزاب کے درج بالا مقام کے الفاظ ’اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِہِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ‘ کی تفسیر میں لکھاہے:
’’...یعنی منہ بولے بیٹوں کو اُن کے باپوں کی نسبت کے ساتھ پکارو تاکہ اُن کے نسب کا امتیاز باقی رہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ کے قانون میں حق و عدل سے اقرب و اوفق ہے۔ اگر اِس کی خلاف ورزی کر کے منہ بولے بیٹوں کو بالکل بیٹوں کے درجے میں کر دیا گیا تو وہ سارا نظام وراثت و قرابت و معاشرت بالکل تلپٹ ہو جائے گا ،جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ نے رحمی رشتوں اور انسانی فطرت کے جذبات و داعیات پر رکھی ہے۔ اسلام کے تمام احکام و قوانین، خواہ وہ کسی شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہوں، اللہ تعالیٰ نے عدل و قسط پر قائم کیے ہیں۔ اِس وجہ سے اِس میں کوئی بات اِس عدل و قسط کے خلاف داخل نہیں ہو سکتی۔‘‘ (تدبر قرآن 6/ 189)