4۔ اضطرار و اکراہ میں عزیمت کے حدود

’عزیمت‘کے معنی کسی کام کو قطعی طور پر انجام دینے کا ارادہ کرنے کے ہیں۔ سورۂ احقاف میں یہ لفظ جس طرح رسولوں کی اولوالعزمی کی پیروی کے لیے آیا ہے، اُس سے واضح ہے کہ اِس میں مصمم ارادے کے ساتھ ثابت قدمی کا مفہوم بھی شامل ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَاصۡبِرۡ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الۡعَزۡمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسۡتَعۡجِلۡ لَّہُمۡ.

(46 : 35)

’’ سو، (اے پیغمبر)، ثابت قدم رہو، جس طرح اولوالعزم پیغمبر ثابت قدم رہے اور اِن کے لیے (عذاب کی) جلدی نہ کرو۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس حکم کے لیے ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو استقامت کی تلقین‘‘ کا عنوان قائم کیا ہے اور اِس کے تحت لکھا ہے:

’’یہ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر و استقامت کی تلقین ہے کہ جس طرح تم سے پہلے ہمارے اولوالعزم رسولوں نے عزم و جزم کے ساتھ تمام مخالفتوں کا مقابلہ کیا اور اپنے موقف حق پر جمے رہے، اُسی طرح دشمنوں کی تمام سازشوں اور ایذا رسانیوں کے علی الرغم تم بھی اپنے موقف پر ڈٹے رہو۔‘‘ (تدبر قرآن 7/ 383)

اصطلاح میں ’عزیمت‘ کا لفظ ’رخصت‘ کے استثنائی حکم کے مقابلے میں آتا ہے اور عموم پر دلالت کرتا ہے۔ اِس اعتبار سے یہ شریعت کے جملہ احکام تکلیفیہ کو متضمن ہے ، یعنی وہ اوامر و نواہی جن کا ایک مسلمان کو مکلف ٹھہرایا گیا ہے اور جن کی بجا آوری اُس کے ایمان و اسلام کا ناگزیر تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصولیین اور فقہا عزیمت کو اصل اور عام قرار دیتے ہیں اور رخصت کو اُس کے جز اور استثنا پر محمول کرتے ہیں۔

امام شاطبی نے اِس بات کی وضاحت اِن الفاظ میں کی ہے:

فالعزيمة في هذا الوجه هو امتثال الأوامر واجتناب النواهي على الإطلاق والعموم، كانت الأوامر وجوبًا أو ندبًا، والنواهي كراهةً أو تحريمًا، وترك كل ما يشغل عن ذلك من المباحات، فضلاً عن غيرها؛ لأن الأمر من الآمر مقصود أن يمتثل على الجملة، والإذن في نيل الحظ الملحوظ من جهة العبد رخصة، فيدخل في الرخصة على هذا الوجه كل ما كان تخفيفًا وتوسعةً على المكلف، فالعزائم حق اللّٰه على العباد، والرخص حظ العباد من لطف اللّٰه، فتشترك المباحات مع الرخص على هذا الترتيب من حيث كانا معًا توسعة على العبد ورفع حرج عنه، إثباتًا لحظه.

(الموافقات 1/472)

’’اِس لحاظ سے عزیمت احکام کی بجاآوری اور نواہی سے اجتناب ہے، جو علی الاطلاق بھی ہے اور عام بھی، خواہ یہ اوامر واجب ہوں یا مستحب اور نواہی، خواہ مکروہ ہوں یا حرام۔ اور مباحات میں سے جو چیز اِن امور سے غافل کرے، اُس کا ترک اُس کے غیر سے زائد ہے، کیونکہ آمر (اللہ تعالیٰ) کے امر کا مقصود یہ ہے کہ بہرحال اُس کی بجا آوری ہو۔ اور بندے کی جہت سے قابل لحاظ حظ کے حصول کی اجازت رخصت ہے۔ اِس لحاظ سے رخصت میں ہر وہ چیز داخل ہے ، جس میں مکلف کے لیے تخفیف اور وسعت ہو۔ چنانچہ عزائم بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور رخصتیں بندوں کی مرغوبات ہیں، جو اللہ کی مہربانی سے ملی ہیں۔ اِسی ترتیب پر مباحات رخصتوں کے ساتھ مشترک ہو جاتے ہیں۔ اِس حیثیت سے وہ دونوں ایک ساتھ بندے پر کشادگی، اُس سے تنگی کو دور کرنے اور اُس کے حظ کو برقرار رکھنے والے بن جاتے ہیں۔ ‘‘

اِس سے واضح ہے کہ شریعت کا اصل مطلوب عزیمت ہے۔ یعنی اوامر و نواہی پر کامل اطاعت اور پورے عزم و جزم کے ساتھ عمل کیا جائے۔کسی موقع پر اگر کوئی اضطرار یا اکراہ لاحق ہو جائے تو رخصت کو با دلِ ناخواستہ اور بہ صد افسوس قبول کیا جائے۔ جیسے ہی اضطرار ختم ہو تو اللہ کا شکر بجا لاتے ہوئے اُس سے کنارہ کشی اختیار کی جائے۔

واضح رہے کہ یہاں رخصت و عزیمت کے وہ مواقع زیرِ بحث ہیں، جواکراہ و اضطرار کی خلافِ معمول صورتِ حال میں پیدا ہوتے ہیں ، عُسر، یعنی تنگی کے وہ مواقع مراد نہیں ہیں، جو انسانوں کا روز مرہ معمول ہیں اور جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے عبادات اور بعض دوسرے احکام میں رعایتیں عطا فرمائی ہیں۔