4۔ کھیتی اور جانوروں کی بعض حرمتیں

سورۂ انعام میں جانوروں اور کھیتی کی بعض اُن صورتوں کا ذکر ہے، جنھیں مشرکین حرام سمجھتے تھے۔ اِن کی حرمت کے فتوے اِن کے مذہبی پیشواؤں اور مجاوروں نے جاری کر رکھے تھے۔استھانوں، بت خانوں، مزاروں پر کھیتوں کی پیداوار اور جانوروں کے جو چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے، اُن کے استعمال کی ایک پوری شریعت وضع کی گئی تھی۔اِس موضوعہ شریعت میں بھی اللہ کے شریکوں کی خوش نودی خود اللہ تعالیٰ کی خوش نودی سے بڑھ کر تھی۔ جانوروں میں اور زمینی پیداوار میں سے ایک حصہ اللہ کے نام کا اور ایک حصہ بتوں کے نام کا مقرر ہوتا تھا۔ بتوں کے حصے میں سے کوئی چیز ضائع ہوجاتی تو اُسے اللہ کے حصے میں سے نکال کر پورا کر لیا جاتا، لیکن اللہ کے حصے میں سے کوئی چیز ضائع ہوتی تو اُس کی تلافی بتوں کے حصے میں سے نہ کی جاتی۔ اِن نذروں اور چڑھاووں کی حلت و حرمت کا بھی ایک پورا قانون تھا۔ فلاں چیز مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام ہے، فلاں کھانا بیوہ کھا سکتی ہے، سہاگن نہیں کھا سکتی۔ فلاں تبرک شادی شدہ عورت کے لیے جائز ہے اور کنواری کے لیے ممنوع ہے۔ اِسی طرح بعض جانوروں کی پیٹھ کا گوشت کھانا حرام تھا۔ ایک صورت یہ تھی کہ وہ بعض جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے اُن پر اللہ کا نام لینا ممنوع سمجھتے تھے۔ بعض طبقوں میں اولاد کو بھینٹ چڑھانے کی بدترین رسم بھی قائم تھی۔ جنوں بھوتوں کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے اُن کے استھانوں پر بچوں کو قربان کر دیا جاتا تھا۔ اِن کے مجاور یہ توہم پیدا کرتے تھے کہ اگر قربانی نہ دی گئی تو پورے خاندان کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ قرآنِ مجید نے اِس من گھڑت شریعت سازی کو افترا علی اللہ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اُن کی اِن افترا پردازیوں کا بدلہ اُنھیں مل کر رہے گا۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَ الۡاَنۡعَامِ نَصِیۡبًا فَقَالُوۡا ہٰذَا لِلّٰہِ بِزَعۡمِہِمۡ وَ ہٰذَا لِشُرَکَآئِنَا ۚ فَمَا کَانَ لِشُرَکَآئِہِمۡ فَلَا یَصِلُ اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ مَا کَانَ لِلّٰہِ فَہُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآئِہِمۡ ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ.

’’(اِن کا ظلم اِس حد کو پہنچ چکا ہے کہ) اللہ کے لیے اِنھوں نے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور چوپایوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا ہے، بہ زعم خود، اور یہ ہمارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے۔ پھر جو اِن کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے، وہ تو اللہ کو نہیں پہنچ سکتا اور جو اللہ کا ہے، وہ اِن کے شریکوں کو پہنچ سکتا ہے۔ کیا ہی برے فیصلے ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

وَ کَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیۡرٍ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ قَتۡلَ اَوۡلَادِہِمۡ شُرَکَآؤُہُمۡ لِیُرۡدُوۡہُمۡ وَ لِیَلۡبِسُوۡا عَلَیۡہِمۡ دِیۡنَہُمۡ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا فَعَلُوۡہُ فَذَرۡہُمۡ وَ مَا یَفۡتَرُوۡنَ. وَ قَالُوۡا ہٰذِہٖۤ اَنۡعَامٌ وَّ حَرۡثٌ حِجۡرٌ ٭ۖ لَّا یَطۡعَمُہَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ بِزَعۡمِہِمۡ وَ اَنۡعَامٌ حُرِّمَتۡ ظُہُوۡرُہَا وَ اَنۡعَامٌ لَّا یَذۡکُرُوۡنَ اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہَا افۡتِرَآءً عَلَیۡہِ ؕ سَیَجۡزِیۡہِمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ.

اِسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے اُن کی اولادکے قتل کو اُن کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں نے خوش نما بنا دیا ہے، اِس لیے کہ اُن کو برباد کر ڈالیں اور اِس لیے کہ اُن کے دین کو اُن کے لیے مشتبہ بنا دیں۔ اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کر پاتے۔ لہٰذا اُنھیں چھوڑو کہ اپنے اِسی افترا میں پڑے رہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ چوپایے اور یہ کھیتی ممنوع ہیں، اِنھیں صرف وہی کھا سکتے ہیں جنھیں ہم کھلانا چاہیں، اپنے گمان کے مطابق۔ اِسی طرح کچھ جانور ہیں جن کی پیٹھیں (اُن کے نزدیک) حرام کر دی گئی ہیں اور کچھ جانور ہیں جن پر محض اللہ پر جھوٹ باندھ کر اللہ کا نام نہیں لیتے۔ اللہ عنقریب اُن کی اِن افترا پردازیوں کا بدلہ اُن کو دے گا جو وہ کرتے رہے ہیں۔

وَ قَالُوۡا مَا فِیۡ بُطُوۡنِ ہٰذِہِ الۡاَنۡعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوۡرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤی اَزۡوَاجِنَا ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مَّیۡتَۃً فَہُمۡ فِیۡہِ شُرَکَآءُ ؕ سَیَجۡزِیۡہِمۡ وَصۡفَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ. قَدۡ خَسِرَ الَّذِیۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوۡلَادَہُمۡ سَفَہًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ حَرَّمُوۡا مَا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ افۡتِرَآءً عَلَی اللّٰہِ قَدۡ ضَلُّوۡا وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ.

(الانعام 6: 136- 140)

اور کہتے ہیں کہ جو کچھ اِن جانوروں کے پیٹ میں ہے، وہ ہمارے مردوں کے لیے خاص ہے اور ہماری عورتوں کے لیے حرام ہے، لیکن اگر وہ مردہ ہو تو دونوں اُس (کے کھانے) میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اللہ عنقریب اُن کی اِن باتوں کی سزا اُنھیں دے گا۔ بے شک، وہ حکیم و علیم ہے۔ یقیناً نامراد ہوئے وہ لوگ جنھوں نے اپنی اولاد کو محض بے وقوفی سے، بغیر کسی علم کے قتل کیا اور اللہ نے جو رزق اُنھیں عطا فرمایا تھا، اُسے اللہ پر جھوٹ باندھ کر حرام ٹھیرایا ہے۔ وہ یقیناً بھٹک گئے ہیں اور ہرگز راہ راست پر نہیں رہے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِن مشرکین کی شریعت سازی اور افترا علی اللہ کے پہلو کو نمایاں کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’...یہ فتوے چونکہ تمام تر اِن پروہتوں کی خود ساختہ شریعت پر مبنی تھے اور وہ اِس کے عالم بھی تھے، اِس وجہ سے نہ کوئی دوسرا اِس میں اپنا کوئی قول لگا سکتا تھا، نہ سرمو اِس سے انحراف کر سکتا تھا ... اِن کی یہ ساری خرافات مبنی تو تھیں اِن کے مشرکانہ اوہام پر،لیکن جس طرح وہ اپنی ساری ہی حماقتوں کو اللہ کی تعلیم کی طرف منسوب کرتے،اُسی طرح اِن حماقتوں کو بھی اللہ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اِس وجہ سے قرآن نے اِس کو افترا سے تعبیر فرمایا اور دھمکی دی کہ اللہ عنقریب اِن کو اِس افترا کی سزا دے گا ... افسوس ہے کہ بغیر کسی خدائی سند کے محض حماقت سے، اللہ پر افترا کر کے اِنھوں نے اپنی اولادوں کو قتل کیا اور اللہ کے بخشے ہوئے رزق کو اپنے اوپر حرام کیا۔ اِن کی بدبختی و نامرادی میں کیا شبہ کی گنجایش ہے۔ یہ لوگ راہِ حق سے بھٹکے اور اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ سے اِن کو اپنی راہ دکھائی تو اپنی بدبختی کے سبب سے اِس کو اختیار کرنے والے نہ بنے۔‘‘

(تدبر قرآن 3 / 172- 173)