خود کشی قتل نفس ہی کی ایک صورت ہے۔ انسانی جان ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے۔ اُسی کا حق ہے کہ وہ اِسے جب چاہے، ہمارے سپرد کرے اور جب چاہے، ہم سے واپس لے۔ خود کشی خدا کے فیصلے کو رد کر دینے کی جسارت ہے، اِس لیے اِس میں بغی کا وہ پہلو نمایاں طور پر شامل ہو جاتا ہے، جو سرکشی سے عبارت ہے۔ خود جان کا بھی حق ہے کہ دنیا میں اُس کی بقا اور سلامتی کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر خود کشی کرنے والے کے لیے جنت کو حرام قرار دیا ہے:
قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم:كان فيمن كان قبلكم رجل به جرح فجزع فأخذ سكيناً فحز بها يده فما رقا الدم حتى مات، قال اللّٰه تعالى بادرني عبدي بنفسه حرمت عليه الجنة.
(بخاری، رقم 3463)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گذشتہ زمانے میں ایک شخص کا ہاتھ زخمی ہوا تو اُس نے تکلیف کے باعث اُسے کاٹ لیا۔ چنانچہ(جسم کا سارا) خون بہ گیا اور اُس کی موت واقع ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے نے خود جلد بازی کی، لہٰذا میں نے جنت کو اُس پر حرام کر دیا۔“
ایک اور روایت میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کشی کی مختلف صورتوں کا ذکر فرما کر اُس کے مرتکبین کے لیے جہنم کی وعید سنائی :
عن أبي هريرة رضي اللّٰه عنه، عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ”من تردى من جبل فقتل نفسه فهو في نار جهنم، يتردى فيه خالدًا مخلدًا فيها أبدًا، ومن تحسى سمًا فقتل نفسه فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدًا مخلدًا فيها أبدًا، ومن قتل نفسه بحديدة فحديدته في يده يجا بها في بطنه في نار جهنم خالدًا مخلدًا فيها أبدًا‘‘.
(بخاری، رقم 5778)
’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا کر خودکشی کر لی، وہ جہنم کی آگ میں ہو گا اوراُس میں ہمیشہ پڑا رہے گا۔ جس نے زہر پی کر خودکشی کر لی، وہ زہر اُس کے ہاتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں وہ اِسے اُسی طرح مستقل پیتا رہے گا۔ جس نے لوہے کے کسی ہتھیار سے خودکشی کر لی تو وہ ہتھیار اُس کے ہاتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں وہ مسلسل اُسے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا۔‘‘
-