مشرکین جن ہستیوں کو نافع اور ضار سمجھتے تھے، اُن کے بارے میں عام طورپر یقین رکھتے تھے کہ وہ غیب پر مطلع ہو سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اِس کی واضح تردید فرمائی:
قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ. (النمل 27: 65)
’’(یہ عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں)۔ اِن سے کہو، (یہ غیب کی باتیں ہیں اور) اللہ کے سوا زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں، اِس غیب کو نہیں جانتے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ (مرنے کے بعد) کب اٹھائے جائیں گے۔‘‘
اِن ہستیوں کے غیب پر مطلع ہونے اور اللہ کے چہیتے ہونے کے تصورات کی بنا پر وہ یہ بھی سمجھتے تھےکہ وہ اللہ کے حضور میں اُن کی سفارش کریں گی، جس کے نتیجے میں اُنھیں دنیا اور آخرت میں کامیابی نصیب ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ سفارش کا حق اللہ کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ سورۂ زمر میں ارشاد ہے:
قُلْ: لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیْعًا لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ.
(39: 44)
’’کہو کہ سفارش تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اُسی کی ہے۔ پھر تم اُسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘
اِن کے غیب سے مطلع ہونے اور اِن کی سفارش کے موثر ہونے کے تصورات کے ذیل میں سفلی عملیات اور تعویذ گنڈوں کا ایک بازار گرم تھا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چیزوں سے منع فرمایا۔ استاذ ِگرامی نے اِس کے بارے میں لکھا ہے:
’’اِن ہستیوں سے استمداد پرمبنی تعویذ گنڈوں میں بھی یہی نجاست ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اِس طرح کی جھاڑ پھونک، گنڈے اور میاں بیوی میں جدائی ڈالنے کے تعویذ، سب شرک ہیں۔‘‘ (میزان 212)