4۔ شراب کی قلیل مقدار

بعض لوگ یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ شراب کی وہی مقدار ممنوع ہے، جو نشے کو لازم کرتی ہے۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ قرآنِ مجید نےشراب کو کسی مقدار کی تعیین کے بغیر حرام ٹھہرایا ہے۔ اِس کی وجہ سدِ ذریعہ کا اصول ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

ما اسكر كثيره فقليله حرام.

(ابو داؤد، رقم 3681)

”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو، اُس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔“

اِسی بنا پر استاذ ِگرامی نے لکھا ہے:

’’...شراب کی حرمت میں اصل علت اُس کے اندر نشے کا پایا جانا ہے۔ اِس وجہ سے ہر نشہ آور چیز کا حکم یہی ہو گا اور سدِذریعہ کے اصول پر اُس کی مقدارِ قلیل بھی اُسی طرح حرام ہوگی، جس طرح مقدارِ کثیر حرام ہے۔‘‘ (البیان 1/ 674)