4۔ شراب نوشی

شراب بھی من جملہ خبائث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ’رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ‘، یعنی گندے شیطانی کاموں میں شمار کیا ہے اور اِس سے اجتناب کی ہدایت فرمائی ہے۔ ارشاد ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ.

(المائدہ 5: 90)

’’ایمان والو، یہ شراب اور جوا اور تھان اور قسمت کے تیر، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، سو اِن سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

شراب کی حرمت کا سبب اِس کا نشہ آور ہونا ہے۔ جب اِس کی شناعت کا ابتدائی حکم آیا اور نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانے سے منع فرمایا تو اُس موقع پر شراب کے بجاے نشے کے الفاظ استعمال کیے گئے۔ سورۂ نساء میں ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡتُمۡ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیۡ سَبِیۡلٍ حَتّٰی تَغۡتَسِلُوۡا.

(4: 43)

’’ایمان والو، (خدا کی بندگی کا جو حکم تمھیں اوپر دیا گیا ہے، اُس کا سب سے بڑا مظہر نماز ہے، اِس لیے) تم نشے میں ہو تو نماز کی جگہ کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ جو کچھ کہہ رہے ہو، اُسے سمجھنے لگو اور اِسی طرح جنابت کی حالت میں بھی، جب تک غسل نہ کر لو، الاّ یہ کہ صرف گزر جانا پیش نظر ہو۔‘‘

اِس سے واضح ہے کہ اصل حرمت نشے کی ہے، وہ جس چیز میں ہو گا، وہ ممنوع قرار پائے گی۔ نشے کا خبث یہ ہے کہ یہ عقل کی نجاست ہے۔ یعنی یہ عقل پر اثر انداز ہو کر اُسے ماؤف کرتا ہے اور انسان کو اِس لائق نہیں چھوڑتا کہ وہ طیب و خبیث اور خیر و شر میں امتیاز کر سکے۔چنانچہ اسراف، سرکشی، قانون شکنی، قمار بازی ، بدکاری اور اِس جیسے بے شمار خبائث اِسی کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ شراب کو ام الخبائث کہا جاتا اور اخلاق باختگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ شراب اور جوا عام طور پر لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔ عرب میں بالخصوص یہی صورتِ حال تھی ۔ اِسی بنا پر قرآنِ مجید نے اِن کا اکٹھا ذکر کیا ہے اور دونوں کو ’رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ‘ (گندے شیطانی کاموں ) میں شمار کیا ہے۔ امام امین احسن اصلاحی نے اِن کے بارے میں لکھا ہے:

’’... عرب، عفت و عصمت، خودداری اور غیرت کے معاملے میں بڑے حساس تھے اور یہ اُن کی بہت بڑی خوبی تھی، لیکن ساتھ ہی شراب اور جوے کے بھی رسیا تھے۔ اِس وجہ سے جام و سنداں کی یہ بازی اُن کے لیے بڑی مہنگی پڑ رہی تھی۔ جہاں کسی نے شراب کی بد مستی میں کسی کی عزت و ناموس پر حملہ کیا، کسی کی تحقیر کی، کسی کو چھیڑا یا جوے میں کوئی چیند کی (اور یہ چیزیں جوے اور شراب کے لوازم میں سے ہیں)، وہیں فریقین تلواریں سونت لیتے اور افراد کی یہ لڑائی چشم زدن میں قوموں اور قبیلوں کی جنگ بن جاتی اور انتقام در انتقام کا ایسا لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا کہ صرف مہینے اور سال نہیں، بلکہ پوری صدی گزار کر بھی یہ آگ ٹھنڈی نہ پڑتی۔ چنانچہ عرب کی تاریخ میں ایسی جنگیں موجود ہیں، جن کی آگ جوے یا شراب خانہ خراب ہی نے بھڑکائی اور پوری ایک صدی تک وہ آگ نہ بجھی۔ بہرحال یہ چیز یا تو دیوث بناتی ہے یا خانہ خراب اور اِن دونوں میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے، جس کو کوئی سلیم الفطرت معاشرہ گوارا کر سکے۔‘‘

(تدبر قرآن 2/ 590- 591)