اللہ تعالیٰ اوراُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ فرمودات جوآداب کی نوعیت کے ہیں اور جن میں ادباً، تادیباً یا تنبیہاً مختلف چیزوں سے روکا گیا ہے، وہ بھی حرمتوں میں شامل نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر سورۂ مائدہ (5) کی آیت 101 میں فرمایا ہے: ’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡ اَشۡیَآءَ اِنۡ تُبۡدَ لَکُمۡ تَسُؤۡکُمۡ‘(ایمان والو، ایسی باتیں نہ پوچھا کرو، جو اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں گراں ہوں)۔ سورۂ بقرہ (2) کی آیت 154 میں ارشاد ہے: ’وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ‘ (اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، اُنھیں یہ نہ کہو کہ مردہ ہیں)۔ سورۂ انعام (6) کی آیت 108 میں ہے: ’وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ‘ (تم لوگ اُنھیں گالی نہ دو، جن کو اللہ کے سوا یہ پکارتے ہیں)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز کے دوران میں تھوکنے سے منع کرنا، تین لوگوں میں سے دو کو سرگوشی کرنے سے روکنا، تین دن سے زیادہ بول چال بند رکھنے کی ممانعت فرمانا اِسی نوعیت کے احکام ہیں، چنانچہ اِن کے لیے حرام کی اصطلاح اختیار نہیں کی جائے گی۔