5۔ کچلی والے درندے اور چنگال والے پرندے

روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں اور چنگال والے پرندوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ مسلم میں رقم ہے:

عن ابن عباس: ان رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم نهى عن كل ذي ناب من السباع وعن كل ذي مخلب من الطير.

(رقم 4996)

’’سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے اور ہر پنجوں والے پرندے (کو کھانے) سے منع فرمایا ہے۔‘‘

عن ابن عباس، قال: نهى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم عن كل ذي ناب من السباع وعن كل ذي مخلب من الطير.

(رقم 4994)

’’‏سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے اور ہر پنجے والے پرندے (کو کھانے) سے منع فرمایا۔‘‘

کچلی سے مراد وہ نوکیلے اور لمبے دانت ہیں، جو چیرنے پھاڑنے والے گوشت خور درندوں میں ہوتے ہیں۔ اِن درندوں کی مثال شیر، چیتا، بھیڑیا ہیں۔ چنگال سے مراد ناخن دار پنجے ہیں۔ شاہین، شکرا اور عقاب میں یہ پنجے ہوتے ہیں۔ اِسی لیے اُنھیں شکار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اِن درندوں اور پرندوں کی حرمت کے بارے میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اصل میں طیبات کی حلت اور خبائث کی حرمت کے اُسی حکم کا اطلاق ہے، جو بالتصریح قرآنِ مجید میں مذکور ہے۔ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی اضافی حکم ارشاد نہیں فرمایا، بلکہ قرآن ہی کے حکم کی توضیح فرمائی ہے۔ اِس لیے اِسے الگ حکم سمجھنے کے بجاے خبائث کی حرمت کے اصول کا اطلاق سمجھنا چاہیے۔ استاذِ گرامی نے لکھا ہے:

’’...یہ اُسی فطرت کا بیان ہے، جس کا علم انسان کے اندر ودیعت کیا گیا ہے۔ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ اُنھوں نے اِسے بیان فطرت کے بجاے بیان شریعت سمجھا،دراں حالیکہ شریعت کی اُن حرمتوں سے جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں، اِس کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔‘‘(میزان 38)