مذاق اڑانا، عیب لگانا، برا لقب دینا دوسروں کی حیثیتِ عرفی مجروح کرنے کی مختلف صورتیں ہیں۔ اِن کا محرک اپنی برتری اور دوسروں کی کہتری کا احساس ہے۔
یہ عام چلن ہے کہ لوگ اپنی کوتاہ نظری کے باعث دوسروں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور اُن کی ایسی چیزوں کو نشانۂ مذاق بناتے ہیں، جو قدرتی اسباب سے پیدا ہوتی ہیں۔ رنگ و نسل، شکل و صورت، تن درستی و معذوری، ذہانت و غباوت، امارت و غربت، حاکمیت و محکومیت، یہ سب چیزیں انسانوں کو اللہ کی مشیت سےخداداد طریقے پر حاصل ہوتی ہیں، اِ ن میں سے ناخوش گوار چیزوں کاتمسخر اڑانا، معاذ اللہ، خدا کے فیصلے کا تمسخر اڑانے کی جسارت ہے۔
اِس سےاگلا اقدام عیب لگانا ہے۔ تمسخر میں تو انسان تضحیک و تحقیر تک محدود رہتا ہے، مگر عیب لگانا ایک سنجیدہ عمل ہے۔ تہمت، بہتان، گالم گلوچ اِسی کی مختلف صورتیں ہیں۔
تمسخر اور عیب تراشی جب جمع ہوتے ہیں تو ’ تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ‘ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ دوسرے کی تذلیل کی بد ترین صورت ہے۔ یعنی پہلے دوسرے میں عیب چنا جاتا ہے اور پھر اُس کے حوالے سے اُس کو کوئی لقب دے دیا جاتا ہے۔ استاذ ِ گرامی نے لکھا ہے:
’’برا لقب دینا کوئی معمولی برائی نہیں ہے۔ یہ طریقہ بالعموم کسی فرد یا قوم کی انتہائی تذلیل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس طرح کے القاب آسانی سے زبانوں پر چڑھ جاتے اور نہایت پایدار اور دور رس نتائج پیدا کرتے ہیں۔ چنانچہ اِن کی پیدا کی ہوئی تلخیاں پشت ہا پشت تک باقی رہتی ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ افراد میں خیرخواہی کا رشتہ ختم ہو جاتا اور قومی وحدت پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔‘‘(البیان 4/ 589)
قرآنِ مجید نے اِن تینوں رذائل اخلاق کو فسق، یعنی اللہ کی نافرمانی قرار دیا ہے اور اِن کے مرتکبین کے بارے میں فرمایا ہے کہ اگر وہ تنبیہ کے باوجود اِ ن بداخلاقیوں کا ارتکاب جاری رکھتے ہیں تو اِس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی جانوں پر خود ظلم ڈھانے والے ہیں ۔ یعنی دنیا و آخرت میں اِس کے تمام نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔ ارشاد فرمایا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنۡہُنَّ ۚ وَ لَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ لَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِ ۚ وَ مَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ.
(الحجرات49: 11)
’’ایمان والو، (اِسی اخوت کا تقاضا ہے کہ) نہ (تمھارے) مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں۔ اور نہ اپنوں کو عیب لگاؤ اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو برے القاب دو۔ (یہ سب فسق کی باتیں ہیں، اور) ایمان کے بعد تو فسق کا نام بھی بہت برا ہے۔ اور جو (اِس تنبیہ کے بعد بھی) توبہ نہ کریں تو وہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔‘‘