5۔ مسلمان کی تکفیر

مسلمانوں میں جو بدعتیں رائج ہوئیں، اُن میں ایک بڑی بدعت’تکفیر‘ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان کو کافر یا غیر مسلم کہہ کر دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا جائے۔ دنیا میں کفر و ایمان کے فیصلے کا حق اللہ اور اُس کے رسول کے پاس ہے۔ اِس کے لیے اتمام حجت ضروری ہے اور اتمام حجت کا علم صرف اللہ کو حاصل ہے۔ وہی اپنے رسول کے ذریعے سے یہ بتا سکتا ہے کہ کسی شخص یا گروہ پر حجت تمام ہو گئی ہے اور اُسے کافر قرار دے کر مسلمانوں کی جماعت سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کےبعد اِس کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہی۔ مزید برآں ،اللہ اگر چاہتا تو یہ حق کسی کو دے سکتا تھا، مگرقرآن و حدیث سے واضح ہے کہ اُس نے یہ حق کسی کو نہیں دیا ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو کافر قرار دینا ایک نئی چیز ہے، جسے اضافی طور پر دین و شریعت میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اللہ اور اُس کے رسول کی ہدایت میں اِس کے لیے کوئی بنیاد موجو دنہیں ہے۔یہ افترا علی اللہ ہے اور بدعت کی بدترین صورت ہے۔

چنانچہ ختم نبوت کے بعد اب ہر مسلمان اپنے اقرار سے مسلمان قرار پاتا ہے۔ وہ اگر اپنے اقرار پر قائم ہے تو کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اُسے کافر یا غیر مسلم قرار دے۔ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والامسلمان سمجھا جائے گا اور اُس کے ساتھ تمام معاملات اُسی طریقے سے ہو ں گے، جیسے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔کوئی فرد، گروہ یا ادارہ اُس کی تکفیر کا فیصلہ صادر نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ ایک مسلمان کی حیثیتِ عرفی کو ختم کرتا اور اُسے سماجی لحاظ سے جیتے جی مار دینے کا اقدام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر کی تہمت لگانے کو قتل کر دینے کے مترادف قرار دیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اگر یہ تہمت خلافِ حقیقت ہوئی تو آخرت میں اِسے تہمت لگانے والے پر لوٹا دیا جائے گا:

عن ثابت بن الضحاك، أن النبي صلی اللّٰہ علیه وسلم قال: من شهد علی مسلم أو قال: ـــ علی مؤمن ـــ بکفر، فهو کقتله، ومن لعنه فهو کقتله.

(معمر بن راشد، رقم19710)

’’ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے کسی مسلمان پر یا فرمایا کہ کسی بندۂ مومن پر کفر کی تہمت لگائی تو یہ اِسی طرح ہے، جیسے اُس نے اُس کوقتل کردیا اورجس نے اُس پر لعنت کی،اُس نے بھی گویا اُسے قتل کردیا ۔‘‘

عن أبي ذر أنه سمع النبي صلی اللّٰہ علیه وسلم یقول: لا یرمي رجل رجلا بالفسوق، ولا یرمیه بالکفر، إلا ارتدت علیه، إن لم یکن صاحبه کذلك.(بخاری، رقم6045)

’’ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: جو شخص بھی کسی دوسرے پر فسقیا کفر کی تہمت لگائے گا، اگر وہ ایسا نہیں ہوا تو اُس کی یہ تہمت اُسی پر لوٹ جائے گی۔‘‘

استاذِ گرامی نے اِن روایات کی وضاحت میں لکھا ہے:

”مطلب یہ ہے کہ مسلمان کی تکفیر کوئی امر مباح نہیں ہے کہ جس کا جی چاہے، اُس پر یہ تہمت لگادے ، بلکہ ایسی سنگین بات ہے کہ گویا اُس کو قتل کر دیا گیا۔ یہ تشبیہ اِس لحاظ سے ہے کہ مسلمانوں کے معاشرے میں کسی کو کافر یا ملعون قرار دینا در حقیقت اُس کی حیثیتِ عرفی کو ختم کردینا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ گویا اُس کی شخصیت کا قتل ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں جن لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا، اُن کے حالات سے اِس کا کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ کوئی شخص اگر اپنے آپ کو مسلمان کہتا اور اپنے مسلمان ہونے پر اصرار کرتا ہے تو کسی کو حق نہیں ہے کہ اُس کو کافر کہے یا قیامت میں خدا کی رحمت سے محروم قرار دے۔ دنیا میں ہر شخص اپنے اقرار ہی کی بنا پرمسلم، غیر مسلم یا کافر سمجھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حق کسی دوسرے کو نہیں دیا ہے ، نہ کسی فرد کو، نہ دین کے کسی عالم کو اور نہ کسی ریاست کو کہ وہ اُس کو کافر یا غیر مسلم قرار دے ۔اِس باب کے تمام معاملات میں آخری اور فیصلہ کن چیز اُس کا اپنا اقرار ہے، لہٰذا کسی کو بھی اُس پر کوئی حکم لگانے کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔‘‘(علم النبی1/250)

ـــــــــــــــــــــــــــــ