کسی شریف مرد و عورت پر زنا کی تہمت لگانا قذف ہے۔ شریعت میں ایسی بہتان طرازی سنگین جرم ہے۔ اِس کے لیے جہنم کی وعید بھی ہے اور اِس کے ساتھ مسلمانوں کے نظم اجتماعی کو حکم دیا ہے کہ وہ اِس کے لیے چار عینی گواہوں کی شہادت کو لازم قرار دے۔ جو بہتان طراز چار گواہ نہ لا سکے،اُسے اسی (80) کوڑے لگانے اور ہمیشہ کے لیے ساقط الشہادت ٹھہرانے کی سزا سنائی ہے:
وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَآءَ فَاجْلِدُوْھُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً وَّلَا تَقْبَلُوْا لَھُمْ شَھَادَۃً اَبَدًا، اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ.(النور 24: 4)
’’اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر (زنا کی) تہمت لگائیں، پھر (اُس کے ثبوت میں) چار گواہ نہ لا سکیں، اُن کو اسی کوڑے مارو اور اُن کی گواہی پھر کبھی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ فاسق ہیں۔‘‘
-