سورۂ نجم کے مذکورہ بالا الفاظ ’اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی‘ (یہ محض وہم و گمان اور اپنے نفس کی خواہشوں کے پیرو ہیں) سے واضح ہے کہ شرک وضع کرنے میں ظنون و اوہام کو خاص دخل ہے۔ انسان پہلے شکوک و شبہات کا شکار ہوتا ہے، پھر اپنے تخیل سے کچھ سایے اور ہیولے بناتا ہے، پھر اُن کے خوف میں مبتلا ہو کر اُن سے نجات کی راہیں تلاش کرنے لگتا ہے۔ اِسی طرح وہ آفاق میں برپا ہونے والے اجنبی اور معمول سے ہٹ کر ہونے والے حوادث کے بارے میں اچھا یا برا شگون گمان میں لاتاہے اور پھر اُن سے خوش ہونا یا ڈرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ چیزیں، ظاہر ہے کہ مشرکانہ تصورات اور اعمال کے دروازے کھولتی ہیں، اِس لیے دین اِنھیں ممنوع کرتا ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر بعض توہمات سے منع فرمایا۔ استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’ ...( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اِسی طرح سدِذریعہ کے اصول پر بعض اُن چیزوں سے بھی روکا ہے، جو اگرچہ شرک تو نہیں ہیں، لیکن اُس تک لے جانے کا باعث ہوسکتی ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک رات تارا ٹوٹا توآپ نے دریافت فرمایا: زمانۂ جاہلیت میں تم اِن کے بارے میں کیا کہتے تھے؟ لوگوں نے عرض کیا: ہم سمجھتے تھے کہ جب کوئی بڑا شخص مرجاتا ہے یا پیدا ہوتا ہے تو تارے ٹوٹتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: نہیں، کسی کے مرنے یا پیداہونے سے تارے نہیں ٹوٹتے۔
زیدبن خالد کا بیان ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر اتفاق سے رات کو بارش ہوئی۔ صبح کو نماز کے بعد آپ لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: جانتے ہو، تمھارے رب نے کیا کہا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اوراُس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ ارشادہوا: اللہ نے فرمایا ہے کہ آج صبح کو میرے بندوں میں سے کچھ مومن ہو کر اٹھے اورکچھ کافر ہو کر، جنھوں نے یہ کہا کہ یہ بارش اللہ کے فضل و رحمت سے ہوئی ہے، وہ میرے ماننے والے اور تاروں کے منکرہیں اور جنھوں نے یہ کہا کہ ہم پر پانی فلاں نچھتر سے برساہے، وہ میرے منکر اورتاروں کے ماننے والے ہیں۔
ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سورج اورچاند کسی کے مرنے یا جینے سے نہیں گہناتے، یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، لہٰذا اِنھیں دیکھوتو نماز پڑھو۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجۂ محترمہ کا بیان ہے کہ آپ نے فرمایا : جو اپنی کسی چیز کا پتا پوچھنے کسی عراف کے پاس جائے گااور اُسے سچا سمجھے گا، اُس کی چالیس دن کی نماز قبول نہ ہوگی۔
سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ کچھ نہیں ہیں۔ اُنھوں نے عرض کیا: یارسول اللہ، اُن کی بعض باتیں سچی بھی نکل آتی ہیں۔ فرمایا : شیطان ایک آدھ بات سن لیتا ہے اورمرغی کی طرح قرقر کر کے اپنے دوستوں کے کانوں میں ڈالتا ہے۔ پھر وہ سو جھوٹ اُس کے ساتھ ملا کر لوگوں سے بیان کرتے ہیں۔
ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے : نہ چھوت ہے، نہ بدفالی ہے، نہ پیٹ میں بھوک کا سانپ ہے اورنہ مردے کی کھوپڑی سے پرندہ نکلتا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اِس کے ساتھ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ غول بیابانی بھی کچھ نہیں ہے۔
سیدنا عمر کابیان ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری شان میں اُس طرح مبالغہ نہ کرو، جس طرح نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کی شان میں کیا ہے۔ میں تو بس خداکا بندہ ہوں، اِس لیے مجھے خدا کا بندہ اور اُس کا رسول ہی کہا کرو۔
ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر سلسلۂ کلام میں کہا : جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔ آپ نے اُسے فوراً روکااور فرمایا: تم نے مجھے خدا کا ہم سر بنا دیا ہے؟ نہیں، بلکہ یہ کہو کہ جو تنہا اللہ چاہے۔‘‘
(میزان 213- 214)