5۔ زنا کی ترغیب

زنا خاندان کا ہادم ہے، جس پر معاشرت کی بنا استوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ’لَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰی‘ کا حکم دیا ہے۔ یعنی زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو۔ گویا اِس کا اقدام تو دور کی بات ہے، اِس کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے۔’قریب نہ جانے ‘سے مراد ہے کہ اُن کاموں سے دور رہا جائے، جو زنا پر آمادہ کرنے والے اور اُس کا راستہ کھولنے والے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اِسی حفظِ ماتقدم کے طور پر مرد و زن کے اختلاط کے آداب مقرر فرمائے ہیں۔ سورۂ نور میں ارشاد ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلٰۤی اَھْلِھَا ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ.

’’ایمان والو، (اِسی پاکیزگی کے لیے ضروری ہے کہ) تم اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، جب تک کہ تعارف نہ پیدا کر لو اور گھر والوں کو سلام نہ کرلو۔ یہی طریقہ تمھارے لیے بہتر ہے تاکہ تمھیں یاددہانی حاصل رہے۔

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْھَآ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْھَا حَتّٰی یُؤْذَنَ لَکُمْ وَ اِنْ قِیْلَ لَکُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا ھُوَ اَزْکٰی لَکُمْ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ. لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ فِیْھَا مَتَاعٌ لَّکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ. قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ، ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ.

پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو اُن میں داخل نہ ہو، جب تک کہ تمھیں اجازت نہ دے دی جائے۔ اور اگر تم سے کہاجائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ۔ یہی طریقہ تمھارے لیے پاکیزہ ہے اور (یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے خوب جانتا ہے۔ اِس میں، البتہ تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جن میں تمھارے لیے کوئی منفعت ہے اور وہ رہنے کے گھر نہیں ہیں۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو۔ (اے پیغمبر)، اپنے ماننے والوں کو ہدایت کرو کہ (اِن گھروں میں عورتیں ہوں تو) اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ جو کچھ وہ کرتے ہیں، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔

وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اٰبَآئِھِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اَبْنَآءِھِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اَخَوٰتِھِنَّ اَوْ نِسَآئِھِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْھَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآءِ، وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ. (24: 27 - 31)

اور ماننے والی عورتوں کو ہدایت کرو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں، سواے اُن کے جو اُن میں سے کھلی ہوتی ہیں اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔ اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں، مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے باپ، اپنے شوہروں کے باپ، اپنے بیٹوں، اپنے شوہروں کے بیٹوں، اپنے بھائیوں، اپنے بھائیوں کے بیٹوں، اپنی بہنوں کے بیٹوں، اپنے میل جول کی عورتوں اور اپنے غلاموں کے سامنے یا اُن زیردست مردوں کے سامنے جو عورتوں کی خواہش نہیں رکھتے یا اُن بچوں کے سامنے جو عورتوں کی پردے کی چیزوں سے ابھی واقف نہیں ہوئے۔ اور اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت معلوم ہو جائے۔ ایمان والو، (اب تک کی غلطیوں پر) سب مل کر اللہ سے رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

یہ آداب درجِ ذیل ہیں :

i۔ دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لی جائے۔

ii۔ مرد اور عورتیں، دونوں اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں۔

iii۔ اختلاط کے موقعوں پر شرم گاہیں نہ کھولی جائیں اور صنفی اعضا کو ڈھانپ کر رکھا جائے۔

iv۔ خواتین اپنی تزئین و آرایش کی چیزوں کو اپنے قریبی اعزہ اور متعلقین کے سوا کسی شخص کے سامنے ظاہر نہ ہونے دیں۔ عادتاً کھلی رہنے والی چیزیں اِن سے مستثنیٰ ہیں۔

اِن آداب کے بارے میں استاذِ گرامی نے لکھا ہے:

’’یہ اخلاقی مفاسد سے معاشرے کی حفاظت اور باہمی تعلقات میں دلوں کی پاکیزگی قائم رکھنے کے لیے اختلاطِ مرد و زن کے آداب ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مقرر فرمائے ہیں۔ سورۂ نور کی اِن آیات میں یہ اِس تنبیہ کے ساتھ بیان ہوئے ہیں کہ دوسروں کے گھروں میں جانے ا ور ملنے جلنے کا یہی طریقہ لوگوں کے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے۔ وہ اگر اِسے ملحوظ رکھیں گے تو یہ اُن کے لیے خیرو برکت کا باعث ہو گا۔ لیکن اِس میں ایک ضروری شرط یہ ہے کہ وہ اللہ کو علیم و خبیر سمجھتے ہوئے اِس طریقے کی پابندی کریں اور اِس بات پر ہمیشہ متنبہ رہیں کہ اُن کا پروردگار اُن کے عمل ہی سے نہیں، اُن کی نیت اور ارادوں سے بھی پوری طرح واقف ہے۔‘‘(میزان465-466)

اِسی ضمن میں احادیث میں بھی بعض ہدایات نقل ہوئی ہیں۔ اُن سے معلوم ہوتا ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سدِ ذریعہ کے طور پر کچھ چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ اِس کا مقصد یہ ہے کہ زنا کو وہاں سے روک دیا جائے، جہاں سے اُس کے لیے سفر کی ابتدا ہوتی ہے۔ اِن روایتوں کا خلاصہ ’’میزان‘‘ میں اِن الفاظ میں نقل ہوا ہے:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِسی مقصد سے عورتوں کے تیز خوشبو لگا کر باہر نکلنے، مردوں کے پاس تنہا بیٹھنے یا اُن کے ساتھ تنہا سفر کرنے سے منع فرمایا۔ لوگوں نے دیور کے بارے میں پوچھا تو ارشادہوا کہ اُس کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا موت کو دعوت دینا ہے۔ لمبے سفرمیں محرم رشتے داروں کو ساتھ لے جانے کی ہدایت کا مقصد بھی یہی ہے۔ پہلی کے بعد دوسری نظر کو فوراً پھیر لینے کے لیے بھی اِسی لیے کہا ہے۔ غنا اور موسیقی کی بعض صورتوں کے بارے میں بھی اِسی لیے متنبہ فرمایا ہے کہ وہ اِس کی محرک ہو سکتی ہیں۔ آپ کا ارشاد ہے کہ آدم کے بیٹے زنا میں سے کچھ نہ کچھ حصہ لازماً پا لیتے ہیں۔ چنانچہ دیدہ بازی آنکھوں کی زنا ہے، لگاوٹ کی بات چیت زبان کی زنا ہے، اِس طرح کی باتوں سے لذت لینا کانوں کی زنا ہے، ہاتھ لگانا اور اِس کے لیے چلنا ہاتھ پاؤں کی زنا ہے۔ پھر دل و دماغ خواہش کرتے ہیں اور شرم گاہ کبھی اُس کی تصدیق کرتی ہے اور کبھی جھٹلا دیتی ہے۔‘‘ (231-232)

اِسی طرح آپ نےجنسی کشش پیدا کرنے کے لیےمصنوعی طریقے سے بال لگانے، جسمانی اعضا کو گود کر اُن پر نقش ونگار بنانے یا اُن کی کاٹ چھانٹ کر کے اُن کی ساخت میں تبدیلی کرنے کو بھی سخت ناپسند فرمایا:

عن ابن عمر رضي اللّٰه عنهما، قال: لعن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة. (بخاری، رقم 5940)

’’ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت بھیجی ہے۔‘‘

قال عبد اللّٰه لعن اللّٰه الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات خلق اللّٰه تعالٰى.

(بخاری، رقم 5931)

’’عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں، گدوانے والیوں، چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والیوں پر لعنت کی ہے، جو (پرکشش) خوب صورتی پیدا کرنے کے لیے اللہ کی خلقت کو بدلتی ہیں۔ ‘‘