6۔غیر اللہ کی قسم

قسم کسی عہد و پیمان یا عزم و ارادے کو موکد اور محکم کرنے کے لیے کھائی جاتی ہے۔ جس کی قسم کھائی جائے، اُس کی حیثیت بزرگ و برتر اور ژرف بیں گواہ کی ہوتی ہے، جو عہد و ارادے کے تمام ظاہری اور باطنی احوال سے آگاہ ہوتا ہے۔ یہ قدر و منزلت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔ اِس لیے انسانوں کے لیے یہی زیبا ہے کہ اگر وہ قسم کھائیں تو بس اُسی کی کھائیں۔ وہ اگر کسی اور کی قسم کھاتے ہیں تو گویا غیر اللہ کو وہی درجہ دیتے ہیں، جو اللہ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کھانے کو شرک سے تعبیر فرمایا ہے:

من حلف بغیر اللّٰہ فقد أشرک.

(ابوداؤد، رقم 3251)

’’جس نے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کھائی، اُس نے شرک کا ارتکاب کیا۔‘‘

ـــــــــــــــــــــــــــــ