6۔ زوجین کا ازدواجی تعلق سے انکار

قرآنِ مجید نے بیویوں کے لیے’کھیتی ‘کا استعارہ استعمال کیا ہے اور شوہروں کو اجازت دی ہے کہ وہ اِسے شاد و آباد رکھنے کا اہتمام کریں۔ اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں اِس کا مقصد بقاے نسل ہے۔ ارشاد ہے:

نِسَآؤُکُمۡ حَرۡثٌ لَّکُمۡ ۪ فَاۡتُوۡا حَرۡثَکُمۡ اَنّٰی شِئۡتُمۡ ۫ وَ قَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ.

(البقرہ 2: 223)

’’تمھاری یہ عورتیں تمھارے لیے کھیتی ہیں، لہٰذاتم اپنی اِس کھیتی میں جس طرح چاہو، آؤ اور (اِس کے ذریعے سے دنیا اور آخرت، دونوں میں) اپنے لیے آگے کی تدبیر کرو۔‘‘

میاں اور بیوی، دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اِس ارفع مقصد کو پوری آمادگی اور دل بستگی کے ساتھ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اِس کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ اگر کوئی رفیق اِس تعاون میں کوتاہی کرتا ہے تو وہ الٰہی اسکیم سے انحراف کا مرتکب ہوتا ہے۔ بیوی اگر بلا سبب گریز کا رویہ اختیار کرتی ہے تو وہ شوہر کی افزایش نسل کی فطری ذمہ داری میں رکاوٹ بنتی ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ شوہر کے حقوق تلف کرنے کے مترادف ہے۔ اِس کے نتیجے میں بعض اوقات زنا کے راستے کھلنے کے امکانات بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس روش پر تنبیہ فرمائی ہے کہ اگر کوئی عورت بلا وجہ ازدواجی تعلق سے انکار کرتی ہے تو وہ فرشتوں کی لعنت ملامت کی مستحق ہو جاتی ہے:

عن أبي هريرة رضي اللّٰه عنه، قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم:”إذا دعا الرجل امراته إلى فراشه فابت فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح.“

(بخاری، رقم 3237)

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے انکار کر دے، جس کی وجہ سے وہ ناراض ہو کر سو جائے تو اُس بیوی پر فرشتے صبح ہونے تک لعنت کرتے رہتے ہیں۔“

ـــــــــــــــــــــــــــــ