چوری اکل الاموال بالباطل (باطل طریقوں سے مال کھانا) کی ایک نمایاں صورت ہے۔ اِس کا گناہ ہونا معلوم و معروف ہے۔ ہر زمانے میں، ہر تہذیب و تمدن میں اور ہر دین و شریعت میں اِسے جرم تسلیم کیا گیا ہے اور اِس کی روک تھام کے لیے سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اثرات و نتائج کے لحاظ سے یہ کوئی مفرد جرم نہیں، بلکہ مجموعۂ جرائم ہے۔ دنیا بھر میں جرائم کے واقعات اگر سامنے رکھے جائیں تو واضح ہو گا کہ قتل و غارت اور آبرو ریزی کے بے شمار حادثات نے چوری اور راہ زنی ہی کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ اسلام کے ابتدائی زمانے میں جب لوگ جوق در جوق مسلمان ہونے لگے تو اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جن امور پر عہد لینے کی ہدایت فرمائی ، اُن میں سے ایک امر چوری سے اجتناب بھی تھا۔ سورۂ ممتحنہ میں ہے:
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَکَ الۡمُؤۡمِنٰتُ یُبَایِعۡنَکَ عَلٰۤی اَنۡ لَّا یُشۡرِکۡنَ بِاللّٰہِ شَیۡئًا وَّ لَا یَسۡرِقۡنَ وَ لَا یَزۡنِیۡنَ وَ لَا یَقۡتُلۡنَ اَوۡلَادَہُنَّ وَ لَا یَاۡتِیۡنَ بِبُہۡتَانٍ یَّفۡتَرِیۡنَہٗ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِنَّ وَ اَرۡجُلِہِنَّ وَ لَا یَعۡصِیۡنَکَ فِیۡ مَعۡرُوۡفٍ فَبَایِعۡہُنَّ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لَہُنَّ اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ . (60 :12)
’’اِسی طرح، اے پیغمبر، جب مسلمان عورتیں بیعت کے لیے تمھارے پاس آئیں (اور عہد کریں) کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی اور چوری نہ کریں گی اور زنا نہ کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی اور اپنے ہاتھ اور پاؤں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی اور بھلائی کے کسی معاملے میں تمھاری نافرمانی نہ کریں گی تو اُن سے بیعت لے لو اور اُن کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کرو۔ بے شک، اللہ غفور و رحیم ہے۔‘‘
اسلامی شریعت میں اِس جرم کی انتہائی سزا ہاتھ کاٹ دینا ہے۔ جب مجرم اپنے جرم کی نوعیت اور اپنے حالات کے لحاظ سے کسی رعایت کا مستحق نہ رہے تو دین نے اِس سزا کے نفاذ کا حکم دیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَھُمَا جَزَآءًم بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ. فَمَنْ تَابَ مِنْم بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَاَصْلَحَ، فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوْبُ عَلَیْہِ، اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.
(المائدہ 5: 38-39)
’’(یہ خدا کی شریعت ہے، اِسے مضبوطی سے پکڑو) اور چور مرد ہو یا عورت، (اُن کا جرم ثابت ہو جائے تو) اُن کے ہاتھ کاٹ دو ، اُن کے عمل کی پاداش میں اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا کے طور پر اور (یاد رکھو کہ) اللہ سب پر غالب ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔ پھر جس نے اپنے اِس ظلم کے بعد توبہ اور اصلاح کرلی تو اللہ اُس پر عنایت کی نظر کرے گا۔ بے شک، اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘