قرآنِ مجیدنے سودکے لیے’رِبٰوا‘ کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ اِس سے مراد وہ اضافہ ہے، جو قرض دینے والا اپنے مقروض سے محض اِس بنا پر وصول کرتا ہے کہ اُس نے ایک خاص مدت کے لیے اُس کو روپے کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اِسے پوری شدت سے حرام قرار دیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا. (البقرہ 2: 275)
’’جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ قیامت میں اٹھیں گے تو بالکل اُس شخص کی طرح اٹھیں گے، جسے شیطان نے اپنی چھوت سے پاگل بنا دیا ہو۔یہ اِس لیے کہ اُنھوں نے کہا ہے کہ بیع بھی تو آخر سود ہی کی طرح ہے اور تعجب ہے کہ اللہ نے بیع کو حلال اور سودکو حرام ٹھیرایا ہے۔ ‘‘
سود کا تعلق اکل الاموال بالباطل سے ہے۔ یعنی دوسروں کی حق تلفی کرتے ہوئے اور اُن سے ظلم و زیادتی کرتے ہوئے اُن کے مال کو ہڑپ کر جانا۔ اللہ تعالیٰ نے قرابت دار اور ضرورت مند کا یہ حق قائم فرمایا ہے کہ تنگ دستی کے حالات میں اُس کی مدد کی جائے۔ یہ پروردگار کی شکر گزاری کا لازمی تقاضا ہے۔ بھائی بندوں کی اگر ایسی ضرورت سامنے آئے تو ہر شخص کو چاہیے کہ حسبِ توفیق اپنا مال اللہ کی راہ میں بہ طورِ صدقہ پیش کر ے۔ تاہم، یہ ممکن نہ ہو تو اُس کے لیے قرض کی سہولت پیدا کی جا سکتی ہے۔ مگر اِس شرط پر قرض دینا کہ ضرورت مند اِس میں اضافہ کر کے واپس لوٹائے، رذالت اور کم ظرفی کی بدترین مثال ہے۔ یہ اپنے ہم نفسوں کی حق تلفی اور اپنے مالک کی ناشکری ہے۔ اِسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اِسے ممنوع ٹھہرایا ہے۔ مزید برآں،اُس نے صدقے کو سودی قرضے کے مقابل رکھ کر یہ واضح کر دیاہے کہ اِس معاملے میں وہ اپنے بندوں سے کیا چاہتا ہے۔ ارشاد ہے:
فَاٰتِ ذَاالۡقُرۡبٰی حَقَّہٗ وَ الۡمِسۡکِیۡنَ وَ ابۡنَالسَّبِیۡلِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَ اللّٰہِ ۫ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ. وَ مَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّیَرۡبُوَا۠ فِیۡۤ اَمۡوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرۡبُوۡا عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ وَ مَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ زَکٰوۃٍ تُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُضۡعِفُوۡنَ.
(الروم 30 : 38-39)
’’سو (رزق میں کشادگی ہو تو) قرابت مند اور مسکین اور مسافر کو اُس کا حق دو۔ یہ اُن کے لیے بہتر ہے جو خدا کی رضا چاہتے ہیں اوروہی (آخرت میں ) فلاح پانے والے ہیں۔ یہ سودی قرض جوتم اِس لیے دیتے ہو کہ دوسروں کے مال میں شامل ہو کر بڑھے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا اور جو صدقہ تم دیتے ہو کہ اُس سے اللہ کی رضا چاہتے ہو تو اُسی کے دینے والے ہیں جو اللہ کے ہاں اپنا مال بڑھا رہےہیں۔‘‘
سورۂ بقرہ کی آیت 279 میں سود کو ظلم سے تعبیر کیا ہے۔اِس کے لیے ’لَا تَظْلِمُوْنَ‘ (نہ تم کسی پر ظلم کرو گے)کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس سے پہلے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اِس ظالمانہ کاروبار کو بند کر دیں ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر اللہ اور رسول کی طرف سے اقدام جنگ کے لیے تیار ہو جائیں:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا، اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰوا، اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ. فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ، وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِکُمْ ، لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ.
(2: 278-279)
’’ایمان والو، اگر تم سچے مومن ہو تو اللہ سے ڈرو اور جتنا سود باقی رہ گیا ہے ، اُسے چھوڑ دو۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اللہ اوراُس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے خبردار ہو جاؤ، اور اگر توبہ کر لو توتمھاری اصل رقم کا تمھیں حق ہے۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو گے ، نہ تم پر ظلم کیا جائے گا ۔‘‘
سود کیسے دوسرے انسانوں کے حقوق کے خلاف ظلم و زیادتی کا باعث بنتا ہے، اِسے امام امین احسن اصلاحی نے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
”... (سود خور) جب ایک مرتبہ اپنے جال میں کسی کو پھنسا پاتا ہے تو چاہے اُس مظلوم کے جسم پر گوشت کی ایک بوٹی بھی باقی نہ رہ گئی ہو، لیکن وہ اپنی ہر میعاد پر آ کر اپنا ایک پونڈ گوشت کاٹ لے گا اور مدت العمر کی اِس قطع و برید کے بعد بھی بسااوقات ہوتا یہ ہے کہ نہ صرف بنیے کا اصل سرمایہ قرض دار پر لدا رہتا ہے، بلکہ وہ اصل سے کئی گنا ہو کر اکاس بیل کی طرح مظلوم قرض دار کے گھردر، اُس کے اثاث البیت اور اُس کے زن و فرزند، ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور خاندان کے خاندان کو جڑ پیڑ سے اکھاڑ کے رکھ دیتا ہے۔‘‘(تدبر قرآن 1/ 633)