رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے لیے مرد و عورت، دونوں کا پاک دامن ہونا ضروری ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کی جس قدیم سنت کو برقرار رکھا، اُس میں اِس امر کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ چنانچہ قرآنِ مجید نے جب نکاح سے متعلق بعض حدود و شرائط کی تصریح فرمائی تو پاک دامنی کو اِس کی ناگزیر شرط کے طور پر بیان فرمایا۔ ارشاد ہے:
وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ.
(النساء 4: 24)
’’اور اِن کے ماسوا جو عورتیں ہیں، (اُن کا مہر ادا کرکے) اپنے مال کے ذریعے سے اُنھیں حاصل کرنا تمھارے لیے حلال ہے، اِس شرط کے ساتھ کہ تم پاک دامن رہنے والے ہو نہ کہ بدکاری کرنے والے۔‘‘
دوسرے مقام پر اِس کی توضیح اِن الفاظ میں بیان فرمائی:
اَلزَّانِی لَا یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَو مُشرِکَۃً وَّ الزَّانِیَۃُ لَا یَنکِحُہَاۤ اِلَّا زَانٍ اَو مُشرِکٌ وَ حُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی المُؤمِنِینَ.
(النور 24 :3)
’’یہ زانی کسی زانیہ یا مشرکہ ہی سے نکاح کرے گا اور اِس زانیہ کو بھی کوئی زانی یا مشرک ہی اپنے نکاح میں لائے گا۔ ایمان والوں پر اِسے حرام کر دیا گیا ہے۔‘‘
اِس کا مطلب ہے کہ شریعت کی رو سے نہ زانی کو یہ حق ہے کہ وہ کسی عفیفہ سے نکاح کرے اور نہ کسی زانیہ کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی پاک دامن مرد کے حبالۂ عقد میں آئے۔
اِس حکم سے مقصود یہ ہے کہ معاشرے میں زنا سے نفرت اور کراہت کا احساس برقرار رہے اور لوگ اُس بدترین برائی سے دور رہیں، جو خاندان کے ادارے کو برباد کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ سورۂ نور کی مذکور آیت کی تفسیر میں استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’نکاح کے لیے اسلامی قانون میں یہ شرط ہے کہ وہ صرف اُنھی لوگوں کے مابین ہوسکتا ہے جو پاک دامن ہوں یا توبہ و اصلاح کے بعد پاک دامنی اختیار کر لیں۔ قرآن کا یہ ارشاد اُسی کی فرع ہے۔ آیت سے واضح ہے کہ زانی اگر ثبوت جرم کے بعد سزا کا مستحق قرار پا جائے تو اُسے کسی عفیفہ سے نکاح کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہی معاملہ زانیہ کے ساتھ ہوگا۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ اِس کے بعد وہ اگر نکاح کرنا چاہیں تو اُنھیں نکاح کے لیے کوئی زانی یا مشرک اور زانیہ یا مشرکہ ہی ملے۔ کسی مومنہ کے لیے وہ ہرگز اِس بات کو جائز نہیں رکھتا کہ اپنے آپ کو کسی زانی کے حبالۂ عقد میں دینے کے لیے راضی ہو اور نہ کسی مومن کے لیے یہ جائز رکھتا ہے کہ وہ اِس نجاست کو اپنے گھر میں لانے کے لیے تیار ہو جائے۔ اِس طرح کا ہر نکاح باطل ہے۔‘‘(البیان 3/ 418)
ـــــــــــــــــــــــــــــ