9۔ جوا

جوے کا شمار بھی اکل الاموال بالباطل میں ہوتا ہے۔ سود کی طرح یہ بھی ناحق زیادتی پر مبنی ہے۔ اِس کا زیادتی ہونا تین پہلوؤں سے ہے۔ ایک اِس پہلو سے کہ اِس کے نتیجے میں ایک شخص بلا استحقاق محض قسمت آزمائی سےدوسرے کے مال کو ہڑپ کر لیتا ہے۔ دوسرے اِس پہلو سے کہ یہ معاشرے کے معاشی عمل کا رخ محنت اور قربانی سے موڑ کر بزدلی اور کم ہمتی کی طرف مبذول کر دیتا ہے۔ تیسرے اِس پہلو سے کہ اِس کے نتیجے میں لوگوں کے مابین کینہ، حسد ، دشمنی، انتقام کے جذبات پیدا ہوتے، جو معاشرے کو فتنہ و فساد کی آماج گاہ بنا دیتے ہیں۔ اِسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اِسے گندے شیطانی کاموں میں شامل کیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ. اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ.

(المائدہ 5: 90-91)

’’ایمان والو، یہ شراب اور جوا اور تھان اور قسمت کے تیر، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، سو اِن سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تمھیں شراب اور جوے میں لگا کر تمھارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمھیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا (اِن چیزوں سے) باز آتے ہو؟‘‘

استاذِ گرامی لکھتے ہیں:

’’جوے کے بارے میں ہرشخص جانتا ہے کہ یہ نری قسمت آزمائی ہے۔ قرآنِ مجید نے اِسے ’رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ‘ (گندے شیطانی کاموں میں سے) قرار دیا ہے۔ اِس کے لیے یہ تعبیر،صاف واضح ہے کہ اُس اخلاقی فساد کی بنا پر اختیار کی گئی ہے، جو اِس سے آدمی کی شخصیت میں پیدا ہوتا اور بتدریج اُس کے پورے وجود کا احاطہ کر لیتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ معاشی عمل کی بنیاد اگر بیع و شرا اور خدمت و اعانت پر رکھی جائے تو اُس سے جس طرح انسان میں اخلاق عالیہ کے داعیات کو قوت حاصل ہوتی ہے، اِسی طرح اِس کی بنیاد اگر اِن سب چیزوں کے بغیر محض اتفاقات اور قسمت آزمائی پر رکھ دی جائے تو اِس کے نتیجے میں محنت،زحمت، خدمت اور جاں بازی سے گریز کا رویہ انسان میں پیدا ہو جاتا ہے۔ پھر بزدلی و کم ہمتی اور اِس طرح کے دوسرے اخلاقِ رذیلہ کی آکاس انسانی شخصیت کے شجرِطیب پر نمایاں ہوتی اور آہستہ آہستہ عفت، عزت، ناموس، وفاوحیا اور غیرت و خودداری کے ہر احساس کو بالکل فنا کر دیتی ہے۔ یہاں تک کہ انسان خدا کی یاد اور نماز سے غافل ہو جاتا اور دوسروں کے ساتھ اخوت و محبت کے بجاے بغض و عداوت کے جذبات اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے۔‘‘(میزان 504)

جوے کے ساتھ جب شراب بھی شامل ہو جائے تو معاشرے پر اُس کے نہایت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ امام امین احسن اصلاحی نے اِن سے متنبہ کرنے کے لیے مذکورہ آیت کے تحت لکھا ہے:

’’...یہ حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں یہ وبا پھیل جائے، اُس میں یا تو عفت، عزت، ناموس اور وفا و حیا کا احساس مٹ جائے گا، جیسا کہ مغرب زدہ سوسائٹی میں آج مشاہدہ ہو رہا ہے اور یہ بجاے خود ایک عظیم حادثہ ہے اور اگر اِن کی کوئی رمق باقی رہے گی تو ناگزیر ہے کہ آئے دن اِن کی بدولت تلواریں کھنچی رہیں۔ عرب عفت و عصمت، خودداری اور غیرت کے معاملے میں بڑے حساس تھے اور یہ اِن کی بہت بڑی خوبی تھی، لیکن ساتھ ہی شراب اور جوے کے بھی رسیا تھے، اِس وجہ سے جام و سنداں کی یہ بازی اُن کے لیے بڑی مہنگی پڑ رہی تھی۔ جہاں کسی نے شراب کی بدمستی میں کسی کی عزت و ناموس پر حملہ کیا، کسی کی تحقیر کی، کسی کو چھیڑا یا جوے میں کوئی چیند کی (اور یہ چیزیں جوے اور شراب کے لوازم میں سے ہیں)، وہیں تلواریں سونت لیتے اور افراد کی یہ لڑائی چشم زدن میں قوموں اور قبیلوں کی جنگ بن جاتی اور انتقام در انتقام کا ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا کہ صرف مہینے اور سال نہیں، بلکہ پوری صدی گزار کر بھی یہ آگ ٹھنڈی نہ پڑتی۔‘‘

(تدبرقرآن 2/ 590)