اخلاق کے فضائل و رذائل کی اساس

اخلاق کے فضائل و رذائل کی اساس ’’عمل صالح‘‘ ہے۔استاذِ گرامی کے نزدیک قرآنِ مجید کی اصطلاح میں اِس سے مراد’’ ہر وہ عمل ہے، جو خدا کی اُس حکمت کے موافق ہو، جس پر کائنات کی تخلیق ہوئی، اورجس کے مطابق اُس کی تدبیرِ امور کی جاتی ہے۔ اِس کی تمام اساسات عقل و فطرت میں ثابت ہیں اور خدا کی شریعت اِسی عمل کی طرف انسان کی رہنمائی کے لیے نازل ہوئی ہے۔‘‘ اِس کا مطلب یہ ہے کہ عمل اگر صالح ہو گا تو اُس کا شمار اخلاق کے فضائل میں ہو گا اور اگر غیر صالح ہو گا تو اُسے اُس کے رذائل میں گردانا جائے گا۔ استاذِ گرامی لکھتے ہیں:

’’یہی عمل صالح ہے، جسے فضائل اخلاق سے، اور اِس کے مقابل میں غیر صالح اعمال کو اُس کے رذائل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے: ’إنما بعثت لأتمم صالح الأخلاق‘ (میں اخلاق عالیہ کو اُن کے اتمام تک پہنچانے کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں)۔ نیز فرمایا ہے کہ تم میں سے بہترین لوگ وہی ہیں، جو اپنے اخلاق میں دوسروں سے اچھے ہیں۔ یہی لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب بھی ہیں۔ قیامت کے دن آدمی کی میزان میں سب سے زیادہ بھاری چیز اچھے اخلاق ہی ہوں گے، اور بندۂ مومن وہی درجہ حسن اخلاق سے حاصل کرلیتا ہے، جو کسی شخص کو دن کے روزوں اور رات کی نمازوں سے حاصل ہوتا ہے۔‘‘(میزان 201)