اخلاقیات کی پانچ حرمتیں

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ اخلاقی دائرے میں تین انواع اور اُن کے دو متعلقات کو شامل کر کے کل پانچ چیزیں ہیں، جنھیں شریعت نے حرام ٹھہرایا ہے۔ ’اِنَّمَا‘ (صرف) کا کلمۂ حصر اِس امر پر دلیل قاطع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِن میں نہ کسی چیز کا اضافہ ہو سکتا ہے اور نہ کمی کی جا سکتی ہے۔ لہٰذا قرآن و حدیث میں مذکور تمام اخلاقی حرمتوں کو اِنھی پانچ حرمتوں کےذیل میں شمار کیا جائے گا۔ استاذِ گرامی نے لکھا ہے:

’’ ... کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ اللہ نے صرف پانچ چیزیں حرام قرار دی ہیں: ایک فواحش، دوسرے حق تلفی، تیسرے ناحق زیادتی، چوتھے شرک اور پانچویں بدعت۔ خدا کی شریعت میں یہی پانچ چیزیں حرام ہیں۔ اِن کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں ہے۔ حلال و حرام کے معاملے میں یہ خدا کا اعلان ہے، لہٰذا کسی کو بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اِن کے علاوہ کسی چیز کو حرام ٹھیرائے۔ چنانچہ اب اگر کوئی چیز حرام ہو گی تو اُسی وقت ہو گی، جب اِن میں سے کوئی چیز اُس میں پائی جائے گی۔ روایتیں، آثار، حدیثیں اور پچھلے صحیفوں کے بیانات، سب قرآن کے اِسی ارشاد کی روشنی میں سمجھے جائیں گے۔ اِس سے ہٹ کر یا اِس کے خلاف کوئی چیز بھی قابل قبول نہ ہو گی۔‘‘(البیان 2/ 150-151)