i۔چال ڈھال اور انداز و اطوار میں اظہارِ تکبر

سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد ہے:

وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَ لَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا. ( 17: 37)

’’اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو، اِس لیے کہ نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔‘‘

سورۂ لقمان میں فرمایا ہے:

وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ. وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ.

( 31: 18- 19)

’’اور لوگوں سے بے رخی نہ کرو اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو، اِس لیے کہ اللہ کسی اکڑنے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو اور اپنی آواز کو پست رکھو، حقیقت یہ ہے کہ سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔‘‘

متکبر شخص کی چال میں ایک خاص طرح کی اکڑ ہوتی ہے۔ میل جول کے موقع پر شانِ بے نیازی نظر آتی ہے۔ لب و لہجہ شاہانہ اور تحکمانہ ہوتا ہے۔ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے، جیسے زمین کا مالک وہی ہے اور باقی لوگ اُس کے غلام اور نوکر چاکر ہیں۔ استاذِ گرامی لکھتے ہیں:

’’ ... دولت، اقتدار، حسن، علم، طاقت اور ایسی ہی دوسری جتنی چیزیں آدمی کے اندر غرور پیدا کرتی ہیں، اُن میں سے ہر ایک کا گھمنڈ اُس کی چال کے ایک مخصوص ٹائپ میں نمایاں ہوتا اور اِس بات پر دلیل بن جاتا ہے کہ اُس کا دل بندگی کے شعور سے خالی ہے اور اُس میں خدا کی عظمت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جس دل میں بندگی کا شعور اور خدا کی عظمت کا تصور ہو، وہ اُنھی لوگوں کے سینے میں دھڑکتا ہے، جن پر تواضع اور فروتنی کی حالت طاری رہتی ہے۔ وہ اکڑنے اور اترانے کے بجاے سر جھکا کر چلتے ہیں۔ لہٰذا یہ ایک بدترین خصلت ہے اور اِس کی سزا بھی نہایت سخت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس شخص کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی غرور ہو، وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ نیز فرمایا ہے کہ عزت پروردگار کی ازار اور بزرگی اُس کی ردا ہے۔ جو اِن میں اُس کا مقابلہ کرے گا، اُسے عذاب دیا جائے گا۔‘‘ (میزان 238- 239)