’فواحش‘ کے لفظ ہی سے واضح ہے کہ یہ کسی متعین عمل کا نام نہیں ہے۔ یہ اصولی تعبیر ہے، جو ہر اُس کام کے لیے اختیار کی جا سکتی ہے، جس میں عریانی، فحاشی اور بے حیائی پائی جاتی ہو۔قرآنِ مجید میں یہ لفظ بے حیائی کی مختلف صورتوں کے لیے آیا ہے۔ اِن میں سے ہر صورت ایک الگ جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ فواحش کسی خاص جرم کا نام نہیں، بلکہ بے حیائی کے تمام جرائم کا سرعنوان ہے۔ قرآن و حدیث میں مذکور اِس کی بعض صورتیں درجِ ذیل ہیں:
زنا،
اغلام،
عریانی،
فحش گوئی،
زنا کی ترغیب ،
زنا کا چرچا ،
بعض رشتوں میں نکاح ،
زانی اور پاک دامن مرد و عورت میں نکاح ۔