اِس میں شبہ نہیں کہ انواع و اقسام کی اشیا میں سے طیبات اور خبائث کی تعیین دشوار نہیں ہے۔ انسان اللہ کی طرف سے ودیعت فطری رہنمائی کی روشنی میں کسی تردد کے بغیر خبیث اور طیب میں امتیاز کر لیتاہے۔ تاہم، اِس کے باوجود بعض چیزیں دائرۂ اشتباہ میں آ سکتی ہیں۔ یعنی اُن کے بارے میں انسان متردد ہو سکتا ہے کہ اُنھیں طیبات سمجھ کر کھا لے یا خبیث سمجھ کر چھوڑ دے۔ اِس دائرے میں متعدد چیزیں انسان کے سامنے آتی رہی ہیں۔تہذیب و تمدن کے ارتقا سے بھی اِن میں اضافہ ہوا ہے۔ اِن کے بارے میں انسان نے ہمیشہ اپنی مجتہدانہ بصیرت کو استعمال کیا ہے اور اِن کا طیبات یا خبائث سے الحاق کر کے اِنھیں کھانے یا نہ کھانے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔
اِس طرح کے مشتبہات میں سے شریعت نے چار چیزوں کو موضوع بنایا ہے اور اُن کی حلت و حرمت کے معاملے کو انسانوں کی راے پر چھوڑنے کے بجاے خود فیصلہ فرما دیاہے۔ یہ چار چیزیں اصلاً ’ بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ‘ سے متعلق ہیں اور درجِ ذیل ہیں:
1۔ مردار،
2۔ خون،
3۔ سؤر کا گوشت،
4۔ غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ۔
اِن میں سے ہر چیز میں اشتباہ کی نوعیت کو بہ ادنیٰ تامل سمجھا جا سکتا ہے۔