ایک صورت یہ ہے کہ رخصت پر عمل کسی دوسرے کے نقصان یا حق تلفی کا باعث بن جائے۔ اِس کی مثال یہ ہے کہ کسی شخص کو جان کا خوف دلا کر دوسروں کی جان، مال یا آبرو کے خلاف تعدی پر اکسایا جائے ، یعنی کسی کو مجبور کیا جائے کہ وہ کسی دوسرے شخص کو قتل کر دے یا اُس کا مال چوری کر لے یا اُس کی عزت کو پامال کر دے۔اِس صورت میں اکراہ کو عذربنا کردوسرے کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ رخصت کو اختیار کرنے کی صورت میں انسان ناحق زیادتی کے بدترین جرم کا آلۂ کار بن کر اُس جرم کا حصہ دار بن سکتا ہے، جسے قرآن نے ’بغی بغیر الحق‘ قرار دے کر حرام ٹھہرایا ہے۔ اِس صورت میں رخصت پر عمل ناجائز ہو گا۔ مجبور کیے گئے شخص کو بہرحال عزیمت کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو عنداللہ مسئول ہو گا۔ اِسی بنا پر فقہا ’الضرر لا یزال بالضرر‘ کو بہ طورِ اصول اختیار کرتے ہیں ۔ یعنی ایک نقصان سے بچنے کے لیے دوسرا نقصان نہیں کیا جائے گا۔علماے امت کاا ِس امر پر اتفاق ہے کہ اگر خود کو ضرر سے بچانے کے لیے دوسرے کو ضرر پہنچانا لازم آ جائے تو پھر خود پر ضرر برداشت کیا جائے گا، دوسرے کو اُس کا ہدف نہیں بنایا جائے گا ۔ امام قرطبی نے لکھا ہے:
أجمع العلماء على أن من أكره على قتل غيره أنه لا يجوز له الإقدام على قتله ولا انتهاك حرمته بجلد أو غيره، ويصبر على البلاء الذي نزل به، ولا يحل له أن يفدي نفسه بغيره، ويسأل اللّٰہ العافية في الدنيا والآخرة.
(الجامع لاحكام القرآن10/ 183)
”علما کا اِس پر اجماع ہے کہ اگر کسی شخص پر دوسرے شخص کو قتل کرنے کے لیے اکراہ کیا جائے تو اُس کے لیے اُس کے قتل پر اقدام کرنا جائز نہیں ہو گااور نہ کوڑے وغیرہ کے ذریعے سے اُس کی حرمت کو پامال کرنا جائز ہو گااور وہ اپنے اوپر آنے والی مصیبت پر صبر کرے گا اور اُس کے لیے حلال نہیں ہو گا کہ دوسرے شخص کو اپنے فدیہ میں دے دےاور اللہ سے دنیا اور آخرت میں عافیت طلب کرے گا۔ ‘‘