ii۔ حق سے اعراض

متکبر اپنی انا کے نشے میں اِس قدر سرشار ہوتا ہے کہ وہ کسی کو بڑا ماننے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ اللہ کا جلیل القدر پیغمبر بھی واضح بینات کے ساتھ سامنے آ جائے تو وہ اُسے بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اُس کا اصل مسئلہ اپنی بڑائی ہوتا ہے۔ اُسے حاصل کرنے کے لیے وہ کتمانِ حق سےبھی دریغ نہیں کرتا ۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ ایسے متکبرین کے لیے جنت میں داخلے کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ ارشاد ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْہَا لاَ تُفَتَّحُ لَہُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَلاَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ. لَہُمْ مِّنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَّمِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاشٍ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ. (الاعراف 7: 40- 41)

’’یہ قطعی ہے کہ جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور تکبر کر کے اُن سے منہ موڑا ہے، اُن کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوں گے، جب تک اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزر جائے۔ (سن لو)، ہم مجرموں کو اِسی طرح سزا دیتے ہیں۔ اُن کے لیے دوزخ کا بچھونا اور اوپر سے اُسی کا اوڑھنا ہو گا۔ (سن لو)، ہم ظالموں کو اِسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘