ii۔رخصت پر عمل سے باطل کی تائید کا اندیشہ

دوسری صورت یہ ہے کہ رخصت پر عمل ظاہری طور پر باطل یا کفر قرار پائے۔ اِس کی مثال ایسا موقع ہے، جب کسی شخص کو ایمان کے منافی عمل کرنے یا خلافِ حق گواہی دینے یا کلمۂ کفر کہنے پر مجبور کر دیا جائے۔ کسی صاحبِ ایمان کے لیے کفر اور زندگی میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا بہت مشکل مرحلہ ہے۔ ایک طرف ایسا گناہ ہے، جو عام حالات میں سر زد ہو جائے تو انسان کو دائرۂ ایمان سے خارج کر سکتا اور ابدی جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے اور دوسری طرف زندگی کا معاملہ ہے، جس کی حفاظت کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اِس دو راہے پر صاحبِ ایمان کو رخصت اور عزیمت میں سے کس طریقے کو اختیار کرنا چاہیے؟ کیا ظاہری طور پر کلمۂ کفر کہہ کر زندگی کو بچا لینا چاہیے یا جان کی پروا کیے بغیر اظہارِ حق پر قائم رہنا چاہیے؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ شریعت نے اِس معاملے میں کوئی حتمی ترجیح قائم نہیں کی ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ زمان و مکان کے احوال اور افراد کے شخصی اوصاف میں فرق ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ زمانۂ رسالت میں کسی موقع پر عزیمت عین مطلوب ہو، جب کہ باقی زمانوں میں ویسے ہی معاملے میں اُس کے تقاضے میں تخفیف ہو جائے۔ اِسی طرح اگر افراد ابوبکر و عمر اور عثمان و علی ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایسے ہر موقع پر وہ عزیمت کی راہ کا انتخاب کریں، جب کہ بعض دوسرے افراد رخصت سے فائدہ اٹھا کر مطمئن ہو سکتے ہیں ۔ اِس معاملے میں ترجیح و اختیار کی ایک صورت روایتوں میں بھی نقل ہوئی ہے۔ کلمۂ کفر زبان پر لانا اتنا بڑا جرم ہے کہ عام حالات میں اگر اِس کا ارتکاب کیا جائے تو انسان دائرۂ ایمان سے خارج اور ابدی جہنم کا مستحق ہو سکتا ہے۔ اکراہ کی صورت میں اِس کی اجازت ایک بڑی رخصت ہے۔ اِس کی عقلی دلیل فقہا کے نزدیک یہ ہے کہ اگر رخصت نہ دی جائے تو شریعت کا حکم صورت اور معانی، دونوں پہلوؤں سے مجروح ہوتا ہے۔ اِس کے برعکس، رخصت پر عمل کرنے سے فقط ظاہری صورت مجروح ہوتی ہے۔