علت سے مراد وہ حقیقت ہے،جس پر شریعت کا کوئی حکم استوار ہوتا ہے۔ یعنی جس متعین وجہ سے یا جس خا ص ضرورت کے تحت شارع نے کوئی حکم دیا ہے یا کوئی پابندی لگائی ہے یا کوئی رخصت عطافرمائی ہے، وہ وجہ یا ضرورت اُس حکم کی علت قرار پائے گی۔ یہ موجبِ حکم کی ظاہری نہیں، بلکہ حقیقی اور اطلاقی نہیں، بلکہ اصولی صورت ہوتی ہے اور حکم کےتمام افراد، تمام مظاہر اور تمام اطلاقات میں یکساں طور پر برقرار رہتی ہے۔ شراب کی حرمت کے حکم میں حرمت کی علت نشہ آوری ہے۔ اللہ نے اصلاً نشہ آور کو حرام ٹھہرایا ہے، شراب اُس کی ایک نمایندہ صورت ہے۔ اُس میں اگر نشے کی تاثیر پیدا نہ ہو یا ختم ہو جائے تو اُس کی حیثیت عام مشروب کی ہو گی اور اُسے شراب قرار دے کر حرام نہیں ٹھہرایا جائےگا۔ اِس کے برعکس، نشہ آوری کی یہی علت اگر بعض دیگر اشیا میں پیدا ہو جائے تو اُن کا استعمال اُسی طرح ممنوع ہو گا، جس طرح کہ مثال کے طور پر شراب کا ہے۔
علت کا مفہوم مقصد کے مفہوم کے مقابلے میں محدود اور مخصوص ہے۔ مقصد کسی حکم کا نصب العین ہوتا ہے۔ اُس سے مراد وہ منزل یا ہدف ہے، جسے پانے کے لیے کوئی حکم دیا جاتا ہے۔ علت اُس کا ہدف نہیں، بلکہ سبب ہوتی ہے۔ چنانچہ کسی حکم کی علت کو اُس کے مقصد سے مختلط نہیں کرنا چاہے۔حرمتِ شراب کی مذکورہ مثال کی اگر تحلیل کی جائے تو یہ کہا جائے گا کہ اِس حکم کا مقصد خور و نوش کا تزکیہ و تطہیر ہے، اِس کی علت نشہ آوری ہے، اِس کی شریعت میں مذکور اطلاقی صورت شراب کی حرمت ہے اور اشتراکِ علت کی بنا پر جملہ منشیات و مسکرات بھی شرعی طور پر ممنوع ٹھہرائے جائیں گے۔